منگل, جنوری 20, 2026
پاکستانقومی سلامتی ترجیح، گڈ، بیڈ طالبان میں تفریق نہیں ہوگی، دہشت گردی...

قومی سلامتی ترجیح، گڈ، بیڈ طالبان میں تفریق نہیں ہوگی، دہشت گردی ناسور کے جڑ سے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں، شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ قومی سلامتی اولین ترجیح، گڈ، بیڈ طالبان میں کوئی تفریق نہیں ہوگی، دہشت گردی ناسور کے جڑسے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں، افغانستان سے لوگوں کو لا کر بسانا فاش غلطی تھی، معاشی طور پر مضبوطی سے دنیا میں وقار بلند ہوا ہے، چاروں صوبوں کی یکساں ترقی کے بغیر پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا، افغان عبوری حکومت اپنے عوام پر رحم، فیصلہ کرے، پرامن ہمسائے کے طور پر رہنا چاہتی ہے یا نہیں۔

منگل کو خیبرپختونخوا سیکیورٹی ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا انتہائی اہم و سٹریٹجک صوبہ ہے، صوبے کے عوام نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں، افغان جنگ کے بعد لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی خیبرپختونخوا اور پاکستان کے عوام نے فرض سمجھ کر کی تاہم اس کے نتیجے میں ملک میں کلاشنکوف کلچر اور دہشت گردی نے جنم لیا، جس میں ہزاروں بے گناہ شہری شہید ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کے بعد متفقہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ گڈ اور بیڈ طالبان کی کوئی تفریق نہیں ہوگی، ایک لاکھ سے زائد جوانوں، افسروں اور شہریوں کی قربانیوں کے بعد دہشت گردی پر قابو پایا گیا، مگر 2018ء کے بعد بعض غلط فیصلوں کے باعث یہ ناسور دوبارہ سر اٹھا گیا جس سے قومی ترقی کو نقصان پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان سے لوگوں کو لا کر بسانے کا فیصلہ فاش غلطی تھی، ملک میں دہشت گردی بڑھنے کی وجہ یہی ہے، سب جانتے ہیں سوات سے سینکڑوں دہشتگردوں کو کس نے رہا کیا؟۔

انہوں نے کہا کہ2010ء میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے دیگر صوبوں نے اپنے حصے سے خیبر پختونخوا کو 800ارب روپے دیئے جبکہ بلوچستان کیلئے بھی اضافی وسائل فراہم کئے گئے۔

بلوچستان کی خونیں شاہراہ کیلئے 400ارب روپے مختص کئے گئے، کسانوں کیلئے سولر ٹیوب ویلز منصوبے میں وفاق نے 50ارب روپے دیئے جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں وفاق کے تعاون سے دانش سکولوں کا جال بچھایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے ،داخلی و خارجی سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے جامع حکمت عملی اپنائی جارہی ہے، خیبرپختونخوا میں امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے عملی اقدامات کررہے ہیں، دہشت گردی کے ناسور کو جڑسے ختم کرنے کیلئے ریاست پرعزم تاہم سب کو متحد ہو کر اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب چاروں صوبے یکساں طور پر آگے بڑھیں،پنجاب اگر ترقی کرتا ہے اور دیگر صوبے ترقی نہیں کرتے تو یہ پاکستان کی ترقی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال فیلڈ مارشل کی قیادت میں بھارت کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل ہوئی، ہم نے بھارت کے 7جہاز مار گرائے ،آج سبز پاسپورٹ کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، ہم معاشی ترقی میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان معاشی طو ر پر مضبوط سے مضبوط ہو رہا ہے جس کی بدولت پاکستان کا وقار دنیا بھر میں بلند ہوا۔

انہوں نے کہا کہ افغان عبوری حکومت سے دوحا اور چین میں بات چیت کی گئی مگر پاکستان کے تحفظات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، افغان سرزمین سے پاکستان کیخلاف دہشت گردی جاری رہنے پر سخت فیصلے کرنا پڑے، افغانستان پرامن طور پر رہنا چاہتا ہے یا نہیں اسے اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا، افغان عبوری حکومت اپنے عوام پر رحم کرے، نوجوانوں کو شدت پسندی سے بچا کر مثبت سمت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور وفاقی حکومت میں سرد جنگ کا تاثر درست نہیں، وزیراعلی خیبرپختونخوا کو فون کر کے عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی جس پر وزیراعلی خیبرپختونخوا نے شکریہ ادا کیا مگر دوبارہ کبھی رابطہ نہیں کیا۔

انٹرنیوز
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!