جمعہ, فروری 20, 2026
پاکستانپاکستانی طلبہ لوک روایات کے ذریعے چینی بہار تہوار میں شامل

پاکستانی طلبہ لوک روایات کے ذریعے چینی بہار تہوار میں شامل

تیانجن(شِنہوا) چین کے شمالی شہر تیانجن میں واقع تیانجن یونیورسٹی کے فینگ جی کائی عجائب گھر میں بہار تہوار کی آمد کے ساتھ ہی خوشگوار اور تہوار جیسا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ بیلوں سے ڈھکی راہداریوں میں لالٹینیں جگمگا رہی ہیں اور روایتی علاقائی فن کے مظاہرے سیاحوں کو نئے چینی سال کی خوشیوں میں شریک کر رہے ہیں۔

متعدد پاکستانی طلبہ نے عجائب گھر میں منعقدہ بہار تہوار کی سرگرمیوں میں حصہ لیا جن میں نئے سال کی روایتی  پینٹنگز کی چھپائی، حرف "فو” لکھنا اور غیر مادی ثقافتی ورثے سے وابستہ فنون کا مشاہدہ شامل تھا۔ ان عملی سرگرمیوں کے ذریعے انہوں نے تہوار اور اس سے جڑی روایات کو زیادہ قریب سے سمجھا۔

محمد اسرار الحق نقیبی نئے سال کی روایتی پینٹنگز کے ایک سلسلے کے سامنے کھڑے ہو کر انہیں بغور دیکھتے رہے۔

نقیبی نے کہا کہ مجھے اس سے پہلے بھی چین میں بہار تہوار منانے کا موقع ملا تھا جو ایک شاندار تجربہ تھا، مگر آج کی تقریب نے مجھے اسے کہیں زیادہ گہرائی سے سمجھنے کا موقع دیا۔

نسلوں سے نئے سال کے یہ فن پارے خاندانوں کے لئے پرانے سال کو رخصت کرنے اور نئے سال میں امن و خوشحالی کی دعا کرنے کا اہم ذریعہ رہی ہیں۔

عجائب گھر کے نمائشی ہال میں تیانجن کے علاقے یانگ لیو چھنگ اور گوانگ ڈونگ صوبے کے شہر فوشان جیسے بڑے پیداواری مراکز کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔ لکڑی کی تختیوں پر کندہ کاری کے اوزار، کثیر پرت چھپائی کی تکنیکیں اور نمائندہ فن پارے ترتیب وار رکھے گئے ہیں۔

نقیبی نے کہا کہ نمائشی حصوں میں چلتے ہوئے میں صرف فن نہیں دیکھ رہا تھا بلکہ ایک زندہ روایت کو محسوس کر رہا تھا۔ لکڑی کے طباعتی بلاک دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ یہ محض مصوری نہیں بلکہ یادوں کو لکڑی میں تراشنے اور امید کو کاغذ پر ثبت کرنے کا عمل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نئے سال کی پینٹنگز کے ارتقا کے بارے میں جان کر انہیں اندازہ ہوا کہ یہ فن جدید دور سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے بھی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا ہوا ہے۔ یہ محض ایک قدیم شے نہیں بلکہ ایک زندہ روایت ہے۔

دروازوں کے دیوتاؤں، مچھلی تھامے بچوں اور دولت کے دیوتا کی رنگین تصاویر نیک تمناؤں کی علامت ہیں۔ ان کے معانی جاننے کے بعد نقیبی نے کہا کہ اب وہ چینی بہار تہوار کو ایک نئے زاویے سے دیکھتے ہیں۔

نقیبی نے کہا کہ آج سے پہلے میں بہار تہوار کو فکری طور پر سمجھتا تھا مگر مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ہر رسم میں کتنی معنویت پوشیدہ ہے۔ یہ صرف ڈمپلنگ کھانے یا سرخ سجاوٹ لگانے کا نام نہیں۔ ڈمپلنگ کی شکل قدیم سونے کی ڈلیوں سے مشابہ ہوتی ہے جو دولت کی علامت ہے۔ گھروں کی صفائی نئے آغاز کی نشانی ہے۔ ہر رسم خوشحالی، تجدید اور خاندانی یکجہتی کی امید لئے ہوتی ہے۔

تیانجن یونیورسٹی کے احاطے میں واقع فینگ جی کائی عجائب گھر میں ہزاروں نوادرات اور فن پارے محفوظ ہیں۔ "نئے چینی سال کی تصویروں کی تاریخ” جیسی نمائشیں روایتی چینی ثقافت کے تحفظ اور فروغ میں اس کے کردار کو اجاگر کرتی ہیں۔

2026 کے بہار تہوارکے دوران یہ عجائب گھر ان پاکستانی طلبہ کے لئے اہم مقام بن گیا جو تعطیلات میں جامعہ میں مقیم رہے اور چینی روایات کو قریب سے جاننا چاہتے تھے۔

معروف چینی ادیب اور ثقافتی محقق فینگ جی کائی نے کہا کہ چین کی طویل زرعی تاریخ میں بہار تہوار وہ موقع رہا ہے جب لوگ اپنی گہری امیدیں اور جذبات خاندانی اور سماجی زندگی میں مرکوز کرتے ہیں۔ اشعار آویزاں کرنا، لالٹینیں لٹکانا،خاندانی ضیافت میں شریک ہونا اور آتش بازی کرنا آج بھی روزمرہ زندگی کے اہم جذباتی اظہار سمجھے جاتے ہیں۔

فینگ نے کہا کہ خوشی، سلامتی، ہم آہنگی، صحت، تکمیل اور خاندانی ملاپ سمیت زندگی سے متعلق لوگوں کے تصورات اور تمنائیں بہار تہوار کی روایات کا بنیادی جوہر ہیں۔ اسی لئے یہ تہوار چینی ثقافت کو سمجھنے کی ایک
اہم جھلک فراہم کرتا ہے اور چینی تہذیب کی نمایاں ترین روایات میں شمار ہوتا ہے۔

پاکستانی طالب علم شایان احمد فینگ جی کائی میوزیم میں چینی حرف ’’فو‘‘ لکھتے ہوئے-(شِنہوا)

اقوام متحدہ کی تنظیم برائے تعلیم، سائنس و ثقافت (یونیسکو) نے 4 دسمبر 2024 کو بہار تہوار کو انسانیت کے غیر مادی ثقافتی ورثے کی نمائندہ فہرست میں شامل کیا جو چینی عوام کے روایتی نئے سال کی سماجی رسومات پر مشتمل ہے۔

فینگ نے کہا کہ ہم کیمپس میں مقیم بین الاقوامی طلبہ کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ ہزاروں سال پر محیط اس ثقافتی ورثے میں شریک ہوں جو پوری انسانیت کا مشترکہ اثاثہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ محض مہمان نہیں بلکہ اس جشن کے شریک ہیں۔ بہار تہوار کو انسانیت کے مشترکہ ورثے کے طور پر تسلیم کئے جانے سے چین کے بارے میں بین الاقوامی فہم میں اضافہ ہوگا اور ثقافتی اعتماد و تسلسل کو تقویت ملے گی۔

پاکستان میں بہار کی تقریبات کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسرار نے کہا کہ ان کے ملک میں بھی بہار کا استقبال بسنت سے کیا جاتا ہے۔

اسرار نے کہا کہ ہمارے ہاں بہار کی ایک خوبصورت تقریب ہوتی ہے، اگرچہ وہ چینی بہار تہوار سے مختلف ہے۔ ہم اسے بسنت کہتے ہیں۔ کئی دنوں تک آسمان سینکڑوں پتنگوں سے بھرا رہتا ہے۔ خاندان چھتوں پر جمع ہوتے ہیں اور ہر طرف ہنسی خوشی کا سماں ہوتا ہے۔ روایات مختلف ہیں مگر خوشی اور تجدید کا احساس مشترک ہے۔

تیانجن یونیورسٹی میں طبیعیات کے شعبے کے پاکستانی طالب علم شایان احمد نے بھی ان سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ یہ چین میں ان کا دوسرا بہار تہوار تھا۔ تہوار کے اشعار اور حرف "فو” لکھنا انہیں خاص طور پر پسند آیا۔

انہوں نے کہا کہ تیزی سے بدلتی دنیا میں یہ دیکھنا متاثر کن ہے کہ روایتی فنون کس طرح لوگوں کو اپنی ثقافتی جڑوں سے جوڑے رکھتے ہیں۔ قدیم رسومات اور جدید ترقی کا ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ چلنا واقعی دلچسپ ہے۔

تقریبات کے مقام پر تیانجن یونیورسٹی کی ڈاکٹریٹ کی پاکستانی طالبہ مسکان سیف خان خاموشی سے روایتی رقص اور ثقافتی مظاہرے دیکھتی رہی اور کبھی کبھار اپنے فون سے لمحات محفوظ کرتی رہی۔ یہ چین میں ان کا تیسرا بہار تہوار تھا۔

مسکان نے کہا کہ اس تجربے نے مجھے چین کے بھرپور ثقافتی ورثے کی گہری قدر دانی سکھائی ہے۔ اس نے مجھے اپنی ثقافتی روایات کے تحفظ اور جشن منانے کی اہمیت پر بھی غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔

براہ راست شرکت کے ذریعے بہار تہوار ان پاکستانی طلبہ کے لئے ایک مشترکہ ثقافتی تجربہ بن گیا۔

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!