پیر, جنوری 19, 2026
بیلٹ اینڈ روڈ+سی پیک2025 کے دوران چین- وسطی ایشیا اقتصادی و تجارتی تعاون میں نمایاں...

2025 کے دوران چین- وسطی ایشیا اقتصادی و تجارتی تعاون میں نمایاں پیش رفت

بیجنگ (شِنہوا) 2025 کے دوران چین اور وسطی ایشیا کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون نے نمایاں ترقی کی جس میں اشیاء کی تجارت کی مجموعی مالیت 106.3 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کی نسبت 12 فیصد زائد ہے۔

وزارت تجارت کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک بیان کے مطابق چین اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارت کا حجم تاریخ میں پہلی بار 100 ارب امریکی ڈالر کی حد عبور کر گیا ہے اور مسلسل 5سال سے اس میں مثبت اضافہ برقرار ہے۔

گزشتہ سال چین پہلی بار وسطی ایشیائی ممالک کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا۔ مکینیکل، الیکٹریکل اور ہائی ٹیک مصنوعات کی طلب میں اضافے کے باعث وسطی ایشیا کے لئے چین کی برآمدات 71.2 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں جو گزشتہ سال کی نسبت 11 فیصد زائد ہیں۔ وسطی ایشیا سے ہونے والی درآمدات 35.1 ارب امریکی ڈالر رہیں جو گزشتہ سال کی نسبت 14 فیصد زائد ہیں۔

چین اور وسطی ایشیا کے درمیان سرحد پار ای کامرس میں تیز رفتار ترقی برقرار رہی جبکہ گوداموں اور لاجسٹکس کی تعمیر میں پیش رفت جاری رہی اور سرحد پار ادائیگیوں میں تعاون پر مکمل عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔

بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت اعلیٰ معیار کے تعاون میں گہرائی اور ٹھوس نتائج کا سلسلہ جاری رہا۔ رابطوں، آلات کی تیاری، ماحول دوست معدنیات اور جدید زراعت جیسے شعبوں میں متعدد بڑے منصوبوں میں تیزی لائی گئی جس نے وسطی ایشیا کے لئے برآمدات بڑھانے اور ان ممالک کو صنعتی اپ گریڈنگ اور معاشی ترقی میں موثر طریقے سے مدد فراہم کی۔

مستقبل کے حوالے سے وزارت نے کہا کہ وہ تجارتی ڈھانچے کو مزید بہتر بنانے، کاروبار کی نئی شکلوں کو فروغ دینے اور اعلیٰ سطح کے ادارہ جاتی انتظامات کے قیام کو فروغ دینے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!