روسی افراج کی جانب سے یوکرین کیخلاف مسلسل کارروائیاں جاری ہیں اور ایک بار پھر یوکرین پر ڈرون حملے کر دئیے ہیں جس کے نتیجے میں 2افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں جبکہ حملوں میں یوکرین کے توانائی کے نظام کو بھی مزید نقصان پہنچا ہے، یوکرین کے مختلف علاقوں میں یہ حملے ایسے وقت میں کئے گئے ہیں جب یوکرینی حکام اور بین الاقوامی ثالث ایک نئے مرحلے کی بات چیت کی طرف بڑھ رہے ہیں، امریکہ اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات جاری ہیں جب میں جنگ کے بعد کے منظرنامے پر غور کیا جا رہا ہے۔
صدر زیلنسکی نے روسی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ رات کے وقت ہونیوالے حملے میں 200سے زائد ڈرونز استعمال کئے گئے جس سے انسانی بحران پیدا ہوا اور توانائی شعبے پر مزید منفی اثرات بڑھ گئے۔
انکا کہنا تھا کہ روس سفارتکاری میں سنجیدہ نظر نہیں آتا، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکا کیساتھ مذاکرات آئندہ ہفتے بھی جاری رہیں گے۔




