بغداد میں جمعہ کی سہ پہر المتنبی اسٹریٹ میں سرخ لالٹینیں ہولے ہولے جھولتی رہیں۔ شہر کی اس سب سے معروف ثقافتی شاہراہ پر بہار کے تہوار کے جشن کے دوران لالٹینوں کی گرم روشنی صدیوں پرانی عمارتوں اور کتابوں کی کھلی دکانوں پر پھیل رہی تھی۔
یہ تاریخی سڑک دسویں صدی کے کلاسیکی عراقی شاعر المتنبی کے نام سے منسوب ہے اور بغدادکے ادبی و فکری حلقوں کا دل اور روح سمجھی جاتی ہے۔ سردیوں کی اس دوپہر یہ تاریخی شاہراہ اس وقت ایک نیا منظر پیش کر رہی تھی جب دجلہ و فرات کے درمیان واقع قدیم تہذیبی خطے اور مشرق کے درمیان وہ ایک ثقافتی پل بنی۔
صدیوں پرانی عمارتوں کے سامنے لٹکتی روشن سرخ لالٹینیں چین میں روایتی طور پر خوشحالی اور اچھے شگون کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ انہی کے نیچے قائم خطاطی کا اسٹال دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے اور ہجوم سڑک تک پھیل گیا۔
عراقی مہمان صبر کے ساتھ قطار میں کھڑے نہایت دلچسپی کے ساتھ دیکھ رہے تھے کہ چینی برش چاولی کاغذ پر کیسے رقص کرتے ہیں۔ کچھ لوگ سیاہی کو کاغذ میں پھیلتا ہوا دیکھ کر ساکت رہ گئے۔ بعض ایسے بھی تھے جو تیار شدہ خطاطی کے کاغذی رول فخر سے تھامے کیمرے کی طرف مسکرا رہے تھے۔
قریب ہی گرم اور خوشبودار ڈمپنگز کی مہک سردیوں کی تازہ ہوا میں پھیل رہی تھی۔ تقریب کے منتظم عراقی چینی فرینڈشپ ایسوسی ایشن کے رضاکار ہر پکوان کے پیچھے پوشیدہ علامتی معنی بتانے میں مصروف تھے جبکہ لوگ تجسس کے ساتھ اسے چکھ رہے تھے۔ دوبارہ ملاقات اور دولت کی علامت سمجھی جانے والی یہ ڈمپلنگز جو قدیم چاندی کے سکّوں کی طرح تہ دار ہوتی ہیں دیکھتے ہی دیکھتے ختم ہو گئیں۔
چائے کے اسٹیشن پر چھوٹے مٹی کے برتنوں سے بھاپ اُٹھ رہی تھی جبکہ مہمان چائے بنانے کا نفیس طریقہ سیکھنے میں محو تھے۔ وہ ننھے کپوں سے چائےکی چُسکیاں لیتے اور ساتھ ساتھ صدیوں پر محیط آداب اور روایت کی وضاحتیں بھی سن رہے تھے۔
تقریب کے مرکز میں ایک "خواہشوں کا درخت” نصب تھا جس کی شاخیں آہستہ آہستہ ہاتھ سے لکھے گئے کارڈز سے بھر رہی تھیں جو رنگین پتوں کی طرح ہل رہے تھے۔ بہت سے عراقی شہریوں نے نئے سال کے لئے عربی زبان میں امن، خوشحالی، تعلیمی مواقع اور عراق و چین کے درمیان مضبوط تعلقات کےحوالے سے اپنی توقعات لکھیں۔ ہر نوٹ جو درخت سے باندھا گیا مختلف ثقافتوں کے درمیان ایک دعا پر مشتمل تھا۔
ہجوم میں یونیورسٹی آف بغداد کے نئے قائم شدہ چینی شعبے کے طلبہ بھی شریک تھے جنہوں نےروایتی چینی لباس پہن رکھا تھا۔ انہوں نے بزرگ عراقیوں کو چینی رسومات سمجھائیں، چینی مہمانوں سے پُراعتماد انداز میں بات چیت کی اور ’’سانپ کے سال ‘‘ سے متعلق سوالات کے جواب دئیے۔
جیسے جیسے دوپہر شام میں ڈھلنے لگی لالٹینیں مدھم ہوتے آسمان کے مقابلے میں زیادہ روشن نظر آ رہی تھیں۔ کتابوں کی دکانیں بدستور کھلی تھیں۔ کیفوں میں لوگوں کا رش تھا۔ میزوں پر عربی شاعری اور چینی تاریخ کی کتابیں رکھی ہوئی تھیں اور لوگ دو قدیم زبانوں میں بات چیت کر رہے تھے۔
اس دوپہر ’المتنبی اسٹریٹ‘ نہ صرف عراق کی ادبی وراثت کی علامت بنی بلکہ ثقافتوں کے رنگا رنگ میل جول کا ایسا مرکز بھی بن کر ابھری جہاں سیاہی، چائے، ڈمپنگز اور مشترکہ خواب نئے چینی سال کے جشن میں ایک ساتھ پروئے گئے۔
بغداد سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
بغداد کی تاریخی کتابوں والی گلی میں نئے چینی سال کا جشن
سرخ لالٹینوں کی روشنی سے پرانی عمارتیں اور کتابوں کی دکانیں جگمگا اٹھیں
شہریوں نے خطاطی، چائے اور روایتی پکوانوں سے چینی ثقافت دیکھی
رضاکاروں نے ڈمپلنگز اور چائے کی روایات کی علامتی اہمیت بیان کی
خواہشوں کے درخت پر امن، خوشحالی اور دوستی کی دعائیں لکھی گئیں
طلبہ روایتی چینی لباس میں مہمانوں کو تہوار کی رسومات سمجھاتے رہے
عربی اور چینی زبان میں مکالمے نے دونوں تہذیبوں کو قریب کیا
تقریب نے عراق اور چین کے عوام کے درمیان روابط مزید مضبوط کئے
شام ڈھلتے ہی لالٹینیں روشن ہوئیں، کیفے آباد اور گفتگو جاری رہی
المتنبی اسٹریٹ ادبی ورثے کے ساتھ ثقافتی ہم آہنگی کی علامت بن گئی




