کمپالا (شِنہوا) یوگنڈا کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے چین کی طرف سے سفارتی تعلقات رکھنے والے 53 افریقی ممالک کے لئے یکم مئی سے زیرو ٹیرف پالیسی کے مکمل نفاذ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام براعظم بھر میں صنعتی اور اقتصادی ترقی کو تیز کرے گا۔
یوگنڈا کے وزیر مملکت برائے خارجہ و بین الاقوامی امور اوریم ہنری اوکیلو نے شِنہوا کو ٹیلیفونک انٹرویو میں بتایا کہ چین کی زیرو ٹیرف پالیسی کا اعلان ایک نہایت اہم وقت پر سامنے آیا ہے، کیونکہ دنیا بھر میں محصولات کو بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ ہفتے ایتھوپیا میں ہونے والے 39 ویں افریقی یونین سربراہ اجلاس سے واپس آ نے والے اوکیلو نے کہا کہ ہم چینی رہنما کی طرف سے افریقہ سے چین بھیجی جانے والی مصنوعات پر زیرو ٹیرف کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔یہ فیصلہ افریقی کاروباری اداروں اور افریقی کاروباری شخصیات کو چین کی ایک ارب افراد کی منڈی میں داخل ہونے کا موقع فراہم کرے گا۔
انہوں نے چین اور افریقہ کے 70 سال سے زائد کے تعاون پر بھی روشنی ڈالی اور ٹرانسپورٹ اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے اہم منصوبوں میں مالی معاونت کے لئے چین کے کردار کو اجاگر کیا، جن میں یوگنڈا کے کاروما اور اسمبا ہائیڈرو پاور پلانٹس بھی شامل ہیں، جنہوں نے بجلی کی قلت کو کم کیا اور صنعتی ترقی میں معاونت فراہم کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک اہم موقع ہے جس سے افریقی تاجر اپنی پیداوار میں اضافہ اور مصنوعات کے معیار کو بہتر بنا سکیں گے، کیونکہ دیگر خطوں کو اسی نوعیت کی اشیاء برآمد کرتے وقت ہمیں مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔




