ابوظہبی/ریاض (شِنہوا) متحدہ عرب امارات، ترکیہ، مصر، اردن، انڈونیشیا، پاکستان، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ طور پر مقبوضہ مغربی کنارے میں زمینوں کو نام نہاد "سرکاری اراضی” قرار دینے کے اسرائیلی فیصلے کی مذمت کی ہے۔
ایک بیان میں وزراء نے علاقے کے بیشتر حصوں میں زمین کی ملکیت کے اندراج اور بستیوں کی تعمیر کے طریقہ کار کی منظوری کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بستیوں کی توسیع اور مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی کنٹرول کو مضبوط کرنے کی جانب ایک غیر قانونی اشتعال انگیزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، خاص طور پر چوتھے جنیوا کنونشن اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2334 سمیت سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
وزراء نے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی عدالت انصاف کی مشاورتی رائے کی خلاف ورزی ہے، جس میں علاقے کی حیثیت تبدیل کرنے کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا اور قبضے کے خاتمے کی ذمہ داری پر زور دیا گیا تھا۔
بیان کے مطابق یہ اقدام دو ریاستی حل کے امکانات اور خطے میں منصفانہ اور جامع امن کے حصول کی کوششوں کے لئے نقصان دہ ہے۔
وزرائے خارجہ نے مقبوضہ فلسطینی علاقے کی قانونی، آبادیاتی اور تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کے تمام یکطرفہ اقدامات کو مسترد کرنے کا اعادہ کیا اور خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات سے تناؤ اور عدم استحکام میں مزید اضافہ ہوگا۔
انہوں نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ ان خلاف ورزیوں کو روکنے اور فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق کے تحفظ کے لئے فیصلہ کن کارروائی کرے جس میں 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد ریاست کا حق بھی شامل ہے جس کا دارالحکومت مشرقی القدس شریف ہو۔




