سپریم کورٹ نے پولیس ریکارڈ میں ذات برادری کے اندراج پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی عزت نفس رعایت نہیں، ناقابل تنسیخ حق ہے، نو مسلم یا کسی بھی طبقے کو ممتاز کرنیوالی اصطلاحات کی قانون واسلام میں گنجائش نہیں، ایف آئی آر اور چالان میں ذات، قبیلہ یا مذہبی حیثیت یا کسی بھی درجہ بندی والے توہین آمیز الفاظوں کا ذکر نہ کیا جائے۔
بدھ کو سپریم کورٹ کے جسٹس محمد ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ایک فوجداری کیس کا 6صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ دیکھ کر شدید دکھ ہوا ہے کہ معاشرہ اب بھی اس بنیاد پر یہ طے کرتا ہے کہ ایک انسان احترام کا مستحق ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ محض اس کے پیشے کی نوعیت سے کیا جاتا ہے، بجائے اس کی فطری عزتِ نفس کے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ انسانی وقار کوئی ایسی رعایت نہیں ہے جو کسی کو بخشی جائے، بلکہ یہ ایک ناقابل تنسیخ حق ہے جو ہر فرد کو اس کی انسانیت کے ناطے حاصل ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھنگی، چوڑا، میراثی، جمعدار، ڈوم اور مصلی جیسی اصطلاحات اب محض کسی ذات کی تعریف کیلئے استعمال نہیں ہوتیں بلکہ ان مخصوص ذاتوں کے ارکان کیخلاف توہین آمیز ریمارکس کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں، ہمیں ایسے معاشرے کے بارے میں تشویش ہے جو بقاء کیلئے صفائی پر انحصار کرتا ہے، لیکن ان لوگوں کی تذلیل کرتا ہے جو اسے ممکن بناتے ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ معاشرے کی غلاظت صاف کرتے ہیں انہیں گندا کہا جاتا ہے اور جو شہروں کو رہنے کے قابل بناتے ہیں ان کی زندگیوں کو فطرتا کم احترام کے لائق سمجھا جاتا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی عالمی انسانی حقوق کی ذمہ داریاں بھی اس دعوے کو تقویت دیتی ہیں۔
انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامئے کے آرٹیکل 1 اور 7، شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی عہد نامے کے آرٹیکل 2اور 26اور معاشی، سماجی و ثقافتی حقوق کا بین الاقوامی عہد نامہ کا آرٹیکل 3قانون کے سامنے برابری اور مذہب یا سماجی بنیادوں پر امتیازی سلوک کے خلاف تحفظ کا حکم دیتے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ کسی بھی ایسی اصطلاح کا استعمال جو نو مسلم کو نیا یا کسی اور طرح سے ممتاز کرے، اس کی نہ تو اسلامی تعلیمات میں اور نہ ہی قانون میں گنجائش ہے۔
سپریم کورٹ نے تمام صوبوں اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کے انسپکٹر جنرلز آف پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایف آئی آرز، گرفتاری کے میمو، برآمدگی کے میمو، تحقیقاتی رپورٹس، چالان یا پولیس کے کسی بھی دوسرے ریکارڈ میں شکایت کنندہ، ملزمان، متاثرین یا گواہوں کے ناموں کیساتھ ذات، قبیلہ، برادری، تبدیلی مذہب کی حیثیت یا کسی بھی قسم کے درجہ بندی والے یا توہین آمیز الفاظ کا حوالہ نہ دیا جائے۔




