پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی احتجاج کے باعث سڑکوں کی بندش پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فی الفور سڑکیں کھلوا کر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا جبکہ ریمارکس دیئے ہیں کہ سٹرکوں کی بندش سے بچے گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے، کیا سڑکوں کی بندش قانون کی خلاف ورزی نہیں؟، جہاں ایکشن لینا ہو 3 ایم پی او کے تحت جیل بھیج دیتے ہیں، حکمران جماعت کا اپنے ہی لوگوں کو تکلیف دینا بدقسمتی ہے۔
منگل کو پشاور ہائیکورٹ میں جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل ڈویژن بینچ نے پی ٹی آئی احتجاج سے سڑکوں کی بندش کیخلاف دائر درخواست پر سماعت کی، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا اور آئی جی پیش ہوئے۔
دورانِ سماعت ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ پارلیمنٹرین اسلام آباد سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کرانے کیلئے گئے ہیں جس پر عدالت نے کہا کہ اسلام آباد ہماری ڈومین نہیں، احتجاج کرنیوالوں کیخلاف کارروائی شروع کی جائے۔
آئی جی ذوالفقار حمید نے عدالت سے استدعا کی کہ 2دن دیئے جائیں جس پر عدالت نے کہا کہ 2دن نہیں، آج سے کارروائی شروع کریں، بدقسمتی ہے حکمران جماعت اپنے ہی لوگوں کو تکلیف دے رہی ہے۔
دوران سماعت وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی آئی احتجاج کی وجہ سے 2افراد راستے میں جاں بحق ہوئے ہیں جس پر عدالت نے کہا کہ یہ جاں بحق افراد ان کیلئے شائد اہم نہیں ہوں گے، کسی صورت موٹر وے بند نہیں ہونی چاہئے، پشاور میں بھی کسی جگہ پر احتجاج نہ کرنے دیا جائے، سٹرکوں کی بندش کی وجہ سے ہمارے بچے گھر سے باہر نہیں نکل سکتے۔
عدالت نے آئی جی سے استفسار کیا کہ کتنے دنوں سے سٹرکیں بند ہیں، آئی جی نے بتایا کہ پہلے 16پوائنٹس پر احتجاج تھا جس کو کم کر 10پوائنٹس تک محدود کیا گیا ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ سڑکوں کی بندش کیا قانون کی خلاف ورزی نہیں؟، آئی جی نے کہا کہ یہ موٹر وے پولیس کی حدود میں آتا ہے جب وہ مراسلہ بھیجتے ہیں تو ہم کارروائی کرتے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ کوئی پشاور سے باہر نہیں جا سکتا، آج کا اخبار دیکھ لیں، صوبے میں بدامنی کے واقعات آپ کے سامنے ہیں، کتنے لوگوں کے خلاف آپ نے اب تک کارروائی کی ہے؟۔
آئی جی پولیس ذوالفقار حمید نے بتایا کہ موٹر وے پولیس جب تک ریفرنس نہ بھیجے ہم کارروائی نہیں کرسکتے۔
جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ جب ایک سٹرک بند ہوتی ہے تو پورا پشاور جام ہوتا ہے، اکثر مقامات پر ٹریفک اہلکار ہوتے ہی نہیں، آئی جی نے کہا کہ سیف سٹی پراجیکٹ آخری مراحل میں ہے۔
عدالت نے کہا کہ پورے صوبے میں ٹریفک کا کوئی نظام نہیں ہے۔
عدالت نے چیف سیکرٹری سے کہا کہ آپ نے اب تک کیا کارروائی کی ہے؟ جہاں ایکشن لینا ہوں تو ان کو 3ایم پی او کے تحت جیل بھیج دیتے ہیں، خیبرپختونخوا کے لوگوں کو تکلیف دی جارہی ہے، خیبرپختونخوا کے ہر ضلع میں بدامنی کے واقعات رونما ہورہے ہیں۔
عدالت عالیہ نے تمام سڑکیں فی الفور کھلوانے کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ بدھ کو پیش کرنے کی ہدایت کردی۔




