بدھ, فروری 18, 2026
تازہ ترینچین نے انتہائی کم بجلی خرچ کرنے والا جدید ٹرانزسٹر تیار...

چین نے انتہائی کم بجلی خرچ کرنے والا جدید ٹرانزسٹر تیار کر لیا

بیجنگ (شِنہوا) چینی محققین کی ایک ٹیم نے دنیا کا سب سے چھوٹا فیرو الیکٹرک ٹرانزسٹر  تیار کیا ہے جو انتہائی کم بجلی پر کام کرتا ہے۔ یہ ایجاد سیمی کنڈکٹر کی صنعت میں نئی پیش رفت کی راہ ہموار کرے گی۔

جریدے سائنس ایڈوانسز میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق جدید سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کے عمل میں اعلیٰ توانائی بچت حاصل کرنے کے لئے لاجک چپس کا آپریٹنگ وولٹیج کم کر کے 0.7 وولٹ تک کر دیا گیا ہے۔ تاہم مرکزی نان وولیٹائل میموری مثلاً نینڈ فلیش میں ڈیٹا جمع کرنے کے لئے پہلے 5 وولٹ یا اس سے زیادہ وولٹیج درکار ہوتا تھا۔

اس عدم مطابقت کے باعث وولٹیج کو بڑھانے یا کم کرنے کے لیے پیچیدہ سرکٹس کو مربوط کرنا پڑتا ہے تاکہ لاجک اور میموری یونٹس باہم کام کر سکیں۔ اس طرح کے انضمام کے نتیجے میں اضافی توانائی صرف ہوتی ہے، جگہ ضائع ہوتی ہے اور لاجک اور میموری کے درمیان ڈیٹا کی منتقلی میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔

عام اے آئی کی چپس میں مجموعی بجلی کا 60 سے 90 فیصد حصہ حساب کتاب کے بجائے ڈیٹا کی منتقلی پر خرچ ہوتا ہے۔ یہ مسئلہ اے آئی کی کمپیوٹنگ پاور اور توانائی کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔

پیکنگ یونیورسٹی کی ایک ٹیم، جس کی سربراہی سینئر محقق چھیو چھن گوانگ اور چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے ماہر تعلیم پینگ لیان ماؤ  کر رہے تھے، نے ایسے نینو گیٹ فیرو الیکٹرک ٹرانزسٹرز تیار کئے ہیں جو محض 0.6 وولٹ کے انتہائی کم آپریٹنگ وولٹیج پر کام کرتے ہیں جبکہ ٹیم نے کامیابی کے ساتھ گیٹ کے طبعی حجم کو گھٹا کر محض ایک نینو میٹر تک محدود کر دیا ہے۔

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!