بھارت میں کشمیری طلبہ کو مبینہ امتیازی سلوک اور عدم تحفظ کے مسائل کا سامنا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بعض ریاستوں میں ان کے داخلوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
غیر ملکی میڈیاکی رپورٹس کے مطابق ریاست اترکھنڈ میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ کی تعداد میں تقریباً 67فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، چند برس قبل یہ تعداد تقریباً 6ہزار تھی جو اب کم ہو کر لگ بھگ 2ہزار رہ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2019کے پلواما واقعے کے بعد کشمیری طلبہ کیخلاف امتیازی رویوں اور ہراسانی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، بعض طلبہ اور تاجروں نے عدم تحفظ کے باعث دیگر ریاستوں میں منتقل ہونے یا تعلیم چھوڑنے کا فیصلہ بھی کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی ماحول میں مذہبی اور نسلی بنیادوں پر تقسیم کے رجحانات بڑھ رہے ہیں، جس کے اثرات تعلیمی اداروں تک بھی پہنچ رہے ہیں۔
ناقدین کے مطابق حکمران جماعت بی جے پی کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے۔
دوسری جانب حکومتی مقف یہ ہے کہ ملک میں تمام شہریوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر شہری کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔




