ماسکو (شِنہوا) روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ چین اور روس کے درمیان ویزا فری سفری پالیسی سے سرحد پار سیاحت اور عوامی روابط کو فروغ ملا ہے، جس سے دوطرفہ تعلقات کو دیرپا تحریک مل رہی ہے۔
ترجمان ماریہ زخارووا نے اپنی معمول کی پریس بریفنگ میں شِنہوا کے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ویزا فری پالیسی کے نفاذ سے چین اور روس کے درمیان سرحد پار سیاحت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔
انہوں نے کہا کہ روس، چین اور دیگر ممالک سے آنے والے سیاحوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ روس غیر ملکی سیاحوں کے لئے مزید آرام دہ سفری ماحول قائم کر رہا ہے، جس کے لئے نئے سیاحتی روٹس کو ترقی دی جا رہی ہے، خصوصی صنعتی شعبوں کو فروغ دیا جا رہا ہے اور جدید بنیادی ڈھانچہ تعمیر کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے دونوں ممالک کے بھرپور ثقافتی اور سیاحتی وسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ سفر ایک دوسرے کی ثقافت اور روایات کی باہمی تفہیم میں مدد فراہم کرتا ہے،عوامی تبادلوں کو فروغ دیتا ہے، روس اور چین کے درمیان روایتی دوستی کو مستحکم کرتا ہے اور دوطرفہ تعلقات کی ترقی کو دیرپا تحریک دیتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ روس-چین ثقافتی سال کامیابی کے ساتھ مکمل ہو چکے ہیں، لیکن اس دوران ثقافتی اور عوامی تعاون کے متعدد منصوبوں نے بڑی صلاحیت کامظاہرہ کیا ہے، اس رفتار اور جوش کو آگے بھی برقرار رکھا جائے گا۔




