یانگون (شِنہوا) میانمار کے شہر یانگون کے تھووانا سٹیڈیم میں ڈھول کی تھاپ گونج اٹھی اور 1,500 سے زائد تماشائیوں کے سروں پر سرخ لالٹینیں لہرانے لگیں جس کے ساتھ ہی چینی نئے سال یعنی گھوڑے کے سال کا پرجوش آغاز ہو گیا۔
میانمار کے تجارتی دارالحکومت میں منعقدہ اس تقریب میں سرکاری حکام، ثقافتی فنکاروں، بیرون ملک مقیم چینی برادری اور مقامی شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
میانمار میں چین کی سفیر ما جیا اور میانمار کے اسٹیٹ سکیورٹی اینڈ پیس کمیشن کے وائس چیئرمین وائس سینئر جنرل سو ون نے تقریب میں شرکت کی اور باقاعدہ افتتاح کیا۔
سو ون نے نئے چینی سال کی مبارکباد پیش کی اور زلزلے کے بعد امدادی سرگرمیوں اور میانمار کے امن عمل میں تعاون پر چین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک نئی حکومت کے قیام کے بعد مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کا منتظر ہے۔
سفیر ما جیا نے کہا کہ اعلیٰ سطح کی قیادت کی رہنمائی میں 2025 میں چین اور میانمار کے دوطرفہ تعلقات نئی بلندیوں پر پہنچ گئے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان "پاؤک فاؤ” (بھائی چارہ) کی دوستی ہمیشہ کی طرح مضبوط ہے۔
مہمانوں نے نئے چینی سال کے ثقافتی میلے کا دورہ کیا اور وہاں کے تجربات سے لطف اندوز ہوئے جن میں گیت، رقص، مارشل آرٹس اور ‘چھن لون’ جیسی روایتی پرفارمنسز شامل تھیں۔
سٹیڈیم میں چینی شیر اور ڈریگن ڈانس اور ‘ووشو’ کے مظاہروں کے ساتھ ساتھ میانمار کے روایتی رقص اور چھن لون کے مقابلے پیش کئے گئے، جس سے ماحول انتہائی پرکشش اور رنگین ہو گیا۔ سٹیڈیم مکمل طور پر ایک جشن بہار کے ثقافتی مرکز میں تبدیل ہو چکا تھا۔




