کابل (شِنہوا) 32 سالہ ٹیکسی ڈرائیور اور 10 افراد پر مشتمل خاندان کا واحد کفیل عصمت اللہ اپنی بیوی کے لئے مقرر کی گئی ادویات پر ماہانہ ایک ہزار افغانی (تقریباً 16 امریکی ڈالر) سے زیادہ خرچ کرتا ہے جو ایک اعصابی مرض میں مبتلا ہے۔ اگرچہ متبادل دستیاب ہیں لیکن بڑھتی ہوئی قیمتیں اس کی محدود آمدنی پر مزید بوجھ ڈالتی ہیں۔
عصمت اللہ نے خاموشی سے کہا کہ قیمتیں پہلے سے زیادہ ہیں۔ صرف پچھلے چار مہینوں میں ہم نے ادویات پر تقریباً 5 ہزار افغانی (تقریباً 77 امریکی ڈالر) خرچ کئے ہیں۔
جب پاکستان کے زمینی سرحدی راستے اچانک بند کر دیئے گئے تو فارمیسیوں، ہسپتالوں اور ہزاروں افغان گھروں میں خاموش خوف پھیل گیا۔ بہت سے خاندان جو پہلے ہی بیماری کے خلاف جدوجہد کر رہے تھے، ان کے لئے یہ خوف صرف سیاست کے بارے میں نہیں تھا بلکہ یہ بھی تھا کہ آیا زندگی بچانے والی دوا کی اگلی خوراک پہنچ پائے گی بھی یا نہیں۔
سرحدی مشکلات کے علاوہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور گلوبل ہیلتھ کلسٹر کی دسمبر 2025 کی رپورٹس نے انسانی بحران کی شدت ظاہر کی، صحت کی تقریباً 445 سہولیات مالی کمی کی وجہ سے بند یا معطل ہو گئیں جس کی وجہ امریکی امداد سمیت بین الاقوامی امداد میں کمی تھی۔ اس کی وجہ سے 34 میں سے 33 صوبوں کے 37 لاکھ 90 ہزار افراد صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم رہ گئے جو افغانستان کی نازک صورتحال کی واضح نشاندہی ہے۔
تاہم افغانستان کی دوا سازی کی منڈی نے خاموشی سے خود کو ڈھال لیا۔ رسد کے نئے راستے فعال کئے، متبادل تجارتی شراکت دار سامنے آئے اور سب سے اہم بات چینی ادویات نے خلا پُر کرنا شروع کر دیا جو قابل اعتماد، سستی اور بڑے پیمانے پر پہنچنے لگیں۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک صارف فارمیسی سے ادویات خرید رہا ہے-(شِنہوا)
کابل میں دو دہائیوں سے زیادہ ادویات کا تھوک کا کاروبار کرنے والے عزیز احمد احمدی نے اس تبدیلی کے بارے میں دلی جوش و خروش کے ساتھ بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت افغانستان کی تقریباً 25 فیصد ادویات کی ضروریات چینی مصنوعات کے ذریعے پوری ہو رہی ہیں۔
احمدی نے اس بات پر زور دیا کہ چینی دوا سازی کی مصنوعات، چاہے وہ انجیکشن ہوں، گولیاں ہوں یا سکون دینے والے سیرپ بھارت یا ایران کی مصنوعات کے مقابلے میں تقریباً 15 فیصد سستی ہیں۔
افغانستان کی ادویات اور طبی آلات کے درآمدکنندگان کی یونین کے قائم مقام سربراہ محمد یعقوب مینگل نے کہا کہ صرف تقریباً 20 فیصد دوائیاں ملکی سطح پر تیار کی جاتی ہیں، باقی 80 فیصد درآمد کی جاتی ہیں۔
مینگل نے کہا کہ مارکیٹ میں موجود چینی دوا سازی اور آلات اب کافی ہیں۔ انہوں نے شِنہوا کو بتایا کہ چینی جراحی آلات، سرنجیں، سیرپ اور دوائیاں بڑے پیمانے پر استعمال کی جا رہی ہیں۔ یہ سستی ہیں اور ہماری منڈی کے لئے ان کا معیار قابل قبول ہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس وقت افغانستان میں دوا سازی کے 130 کارخانے ہیں جو 600 سے زائد اقسام کی دوائیاں تیار کرتے ہیں، پھر بھی ملکی پیداوار قومی طلب کے مقابلے میں بہت کم ہے۔




