رہنماء پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ 26 و27ویں آئینی ترامیم سے عدلیہ بے وقعت ہوگئی، لوگوں کو ناحق جیل میں ڈالنے سے ملک کیسے آگے بڑھے گا؟، ملک غلط سمت جارہا، ہوشمندی کا تقاضا ہے بیٹھ کر بات کی جائے، نہیں چاہتے کچھ ایسا ہو جس سے ملک کو نقصان پہنچے۔
پشاور ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وزیراعلی سہیل آفریدی کا کراچی میں والہانہ استقبال کیا گیا جس سے ثابت ہوا پی ٹی آئی ملک کی بڑی جماعت، چاہنے والے ہر جگہ موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں سہیل آفریدی کے استقبال سے واضح ہوا کہ تمام لوگ جان چکے ہیں کہ ملک غلط سمت جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنا مقدمہ عوام کے سامنے رکھ چکے ہیں،عوام اب اپنا مقدمہ خود لڑیں گے کیونکہ انہیں آواز اٹھانے کا حق آئین نے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ اپنا فیصلہ خود کرتی ہے، اب ہر شخص نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس طرح زندگی گزارنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو بے وقعت کردیا گیا ہے، ہوش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ بیٹھ کر بات کی جائے، اگر لوگوں کو ناحق جیل میں ڈالا جائے گا تو ملک کیسے آگے بڑھے گا؟۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس وقت نظام پر مسلط ہیں انہیں عوام کیساتھ بیٹھنا ہوگا، ہم نہیں چاہتے کہ ملک میں ایسا کچھ ہو جس سے پاکستان کا نقصان ہو۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں ترقی ہو رہی ہے نہ سرمایہ کاری آرہی ہے، آئندہ کیا ہوگا اس کی ذمہ داری اب حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ افسوس اب تک دونوں ایوانوں میں اپوزیشن لیڈر زکی تقرری نہیں ہوسکی، محمود اچکزئی کو قومی اسمبلی، راجہ ناصر عباس کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بنایا جانا چاہئے، سپیکر کو چاہئے کہ اب وہ تقرری کردیں اس میں مزید تاخیر نہ کی جائے۔




