ایرانی حکومت ملک بھر میں کئی روز کی افراتفری، پرتشدد احتجاج اور غیر یقینی کی صورتحال کے بعد مظاہروں پر قابو پانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک بھر کے تمام شہروں میں گزشتہ 24گھنٹے کے دوران بد امنی کا کوئی ایک واقعہ بھی رپورٹ نہیں ہوا۔
دوسری جانب میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران سمیت ملک بھر میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ بند ہو گیا ہے اور امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جون جیسی غلطی دوبارہ نہ دہرائی جائے ورنہ وہی نتیجہ نکلے گا جو پہلے نکلا تھا، ہمارے عزم کو بمباری سے نہیں توڑا جا سکتا۔
انکا کہنا تھا کہ مظاہروں میں موجود عناصر کو بیرون ملک سے کنٹرول کیا جا رہا تھا، کچھ مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر گولیاں چلائیں، داعش طرز کی دہشتگردانہ کارروائیاں کی گئیں، پولیس اہلکاروں کو زندہ جلایا گیا، ایران کو ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی ممالک کی جانب سے مختلف قسم کے خطرات کا سامنا ہے، سفارتکاری اچھا راستہ ہے مگر ہمارا امریکا کیساتھ اچھا تجربہ نہیں، پھر بھی سفارتکاری جنگ سے بہتر ہے۔




