وفاقی حکومت نے آلودگی ذرائع، مقامات و شدت کے درست تعین کیلئے راول جھیل میں پانی کی آمد و اخراج کے مقامات پرپانی کا معیار ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
جمعرات کو وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کی زیر صدارت راول جھیل کے پانی کے معیار کا جائزہ لینے کیلئے اعلی سطحی اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی عائشہ موریانی، سیکرٹری وزارتِ آبی وسائل سید علی مرتضی، ڈائریکٹر جنرل ماحولیاتی تحفظ ایجنسی ڈائریکٹر جنرل راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی، منیجنگ ڈائریکٹر واسا اور متعلقہ وفاقی و صوبائی وزارتوں اور محکموں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر کو راول جھیل میں شامل ہونیوالے تین بڑے آبی نالوں کورنگ، لیک ویو اور جناح کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ان میں سے بعض نالے قریبی رہائشی علاقوں سے خارج ہونیوالے سیوریج کے باعث آلودگی کا شکار ہو چکے ہیں، اس آلودگی کے خاتمے کیلئے سملی روڈ، بری امام اور شاہدرہ کے مقامات پر تین سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اور واسا کو ہدایت کی ہے کہ راول جھیل میں پانی کی آمد اور اخراج کے مختلف مقامات پر جامع پانی کے معیار کے ٹیسٹ کئے جائیں تاکہ آلودگی کے ذرائع، مقامات اور اس کی شدت کا درست تعین کیا جا سکے۔
مصدق ملک نے کہا کہ پینے کیلئے صاف اور محفوظ پانی تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اگرچہ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کو پانی فراہمی اور سیوریج نظام پر براہِ راست دائرہ اختیار حاصل نہیں تاہم وزارت معاملے پر متعلقہ اداروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی تاکہ بروقت اور موثر اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ شواہد پر مبنی اقدامات ہی موثر اور پائیدار حل کی ضمانت فراہم کر سکتے ہیں۔
مصدق ملک نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی اداروں کے مابین بہتر اور موثر رابطہ وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب کے عمل کو تیز، عوام کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا جا سکے۔




