ہفتہ, فروری 14, 2026
انٹرٹینمنٹچھونگ چھنگ سے اپنائیت بھرا پیغام، پاکستانی طالبہ کا پہلا نیا چینی...

چھونگ چھنگ سے اپنائیت بھرا پیغام، پاکستانی طالبہ کا پہلا نیا چینی سال

چھونگ چھنگ (شِنہوا) چین کی جنوب مغربی بلدیہ چھونگ چھنگ کے ضلع بنان کے ثقافتی اور فنی مرکز میں پاکستانی نوجوان میمونہ سحر حنیف نے نئے چینی سال سے قبل کاغذ تراشی کے چینی فن میں مہارت آزمائی اور سرخ کاغذ سے گھوڑے کی شکل والا ایک چھوٹا سا تھیلا تیار کیا۔ اپنا کام دکھاتے ہوئے انہوں نے چینی زبان میں مختصر مبارکباد دی ”ما نیان کوائی لہ، گھوڑے کا چینی سال مبارک ہو۔“

حال ہی میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں 20 سے زائد غیر ملکی طلبہ کو روایتی رسوم و رواج سے روشناس کرانے کے لئے اکٹھا کیا گیا جو چین اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے عوامی تعلقات کی عکاسی کرتے ہیں۔

چین کے شہر چھونگ چھنگ کے ضلع بنان کے مقامی عجائب گھر میں ایک بین الاقوامی طالبہ روایتی چینی کاغذ تراشی کے فن کا تجربہ کر رہی ہے۔(شِنہوا)

میمونہ کی عمر 20 سال کے لگ بھگ ہے اور وہ چھونگ چھنگ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں فارماسیوٹیکل سائنس کی طالبہ ہیں۔ وہ گزشتہ سال چین آئیں اور چینی زبان کے صرف چند الفاظ ہی بول پاتی ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ شہر اب انہیں شناسا سا لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے چھونگ چھنگ پسند ہے، یہاں اپنائیت ہے۔ انہوں نے انگریزی میں مزید کہا کہ یہاں کی ثقافت بہت ”بھرپور“ ہے۔

چین اور پاکستان اپنے تعلقات کو ”سدا بہار دوستی“ قرار دیتے ہیں۔ چینی یونیورسٹیوں نے طب، انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی میں پاکستانی طلبہ کی ایک بڑی تعداد کو داخلہ دیا ہے اور چین کا بڑا شہر چھونگ چھنگ اس حوالے سے ایک نئے مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔

ثقافتی مرکز میں ہونے والی سرگرمیوں میں سیاہی سے نقش ابھارنے کا فن، خوش نصیبی کی تھیلیاں تیار کرنا، چینی خطاطی اور مقامی لوک گیت سیکھنا شامل تھا۔ منتظمین نے کہا کہ اس سرگرمی کا مقصد غیر ملکی طلبہ کو رسمی لیکچرز کے بجائے روزمرہ روایات کے ذریعے چین کو سمجھنے کا موقع فراہم کرنا تھا۔

پاکستانی طالبہ میمونہ سحر حنیف (بائیں) چین کے شہر چھونگ چھنگ کے ضلع بنان کے ایک ریستوران میں روایتی چینی پکوان ‘سیبا’ (لیس دار چاول سے بنی مٹھائی) بنانے کا تجربہ کر رہی ہیں۔(شِنہوا)

اپنا بنایا ہوا تھیلا دکھاتے ہوئے میمونہ نے کہا کہ ”یہ میرے والد کے لئے ہے۔“ چین کے ساتھ ان کا تعلق بہت پرانا ہے، ان کے والد نے 10 سال قبل چین سے پی ایچ ڈی مکمل کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”اسی لئے چین مجھے اپنے دوسرے گھر کی طرح لگتا ہے۔“

انہوں نے کہا کہ چین کے پاس زیادہ جدید ٹیکنالوجی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ یہاں تعلیم حاصل کرنے کے بعد میرا مستقبل روشن ہوگا۔ وہ گریجویشن کے بعد فارماسیوٹیکل کے شعبے میں کام کرنے اور آخر کار پاکستان کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کی امید رکھتی ہیں۔

چین کے شہر چھونگ چھنگ کے ضلع بنان کے ایک ریسٹورنٹ میں بین الاقوامی طالب علم روایتی چینی غذا سوئے دودھ بنانے کا تجربہ کر رہا ہے۔(شِنہوا)

مرکز میں جنوبی افریقہ، بنگلہ دیش اور مراکش کے طلبہ نے اپنی بنائی ہوئی چیزوں کا ایک دوسرے سے موازنہ کیا جہاں مختلف زبانوں اور قہقہوں کی گونج سنائی دی۔

نوجوان طالبہ نے کہا کہ جب میں اپنی تعلیم مکمل کر لوں گی، تو میں ایسی شخصیت بننا چاہتی ہوں جو پاکستان اور چین کو آپس میں جوڑے۔

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!