بشکیک (شِنہوا) ایک کرغز ماہر نے کہا ہے کہ ایک بڑا ملک ہونے کے ناطے چین نے مختلف شعبوں میں عالمی امن اور ترقی میں حصہ ڈالا ہے اور موجودہ دور میں پائیدار عالمی ترقی کو چینی دانش اور حل کی ضرورت ہے جو انسانیت کے لئے مشترکہ مستقبل کی حامل برادری کی تعمیر کے اقدام پر مبنی ہیں۔
اوئی اوردو سنٹر فار ایکسپرٹ انیشی ایٹو کے ڈائریکٹر ایگور شیستاکوف نے کہا کہ بیجنگ میں خواتین کے متعلق سربراہ اجلاس کے دوران عالمی استحکام میں خواتین کے اہم کردار کو اجاگر کرنے پر نمایاں توجہ مرکوز کی گئی، اس کے ساتھ ساتھ خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا گیا جو اس اجلا س کے کلیدی موضوع تھے۔
انہوں نے کہا کہ ایس سی او تیانجن سربراہ اجلاس میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ واحد قطبی دنیا اب قابل عمل نہیں ہے۔ کسی ایک ریاست کی طرف سے جغرافیائی سیاسی حکم چلانے کا اختیارنہیں ہونا چاہیے۔دنیا کثیر قطبی ہے اور برابر کی ریاستوں پر مبنی ہے۔ یہ اس سربراہ اجلاس کا بنیادی پیغام تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ چین کے عالمی اقتصادی تعاون کے کھلے پن میں سٹرٹیجک قدم ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے چین کا منظم کام اور نئے اقدامات عالمی اور علاقائی سطح پر ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کی طرف اہم کردار ادا کرتے ہیں۔




