ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے قومی سلامتی امور میں یکسوئی اور بیانئے پر اتفاقِ رائے کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن کی نفسیاتی جنگ کے مقابلے کیلئے عوامی شعور، سچائی پر مبنی بیانیہ فیصلہ کن ہتھیار ہے۔
ذرائع کے مطابق منگل کو قومی بیانئے کی تشکیل کیلئے قائم قومی پیغام امن کمیٹی این پی اے سی نے جی ایچ کیو میں ڈی جی آئی ایس پی آر سے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری سے ملاقات کی جس میں قومی بیانئے کے فروغ کیلئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔
ملاقات میں پاک افواج سے غیر متزلزل یکجہتی اور ریاست دشمن بیانیوں کے خلاف مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا، این پی اے سی نے فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں۔
این پی اے سی نے منبر و محراب سے اتحادِ امت، سماجی ہم آہنگی اور آئینی برابری کے پیغام کو ملک گیر سطح پر پھیلانے کا اعلان کیا اور نفرت انگیزی، فرقہ واریت اور تکفیری بیانئے کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے پر اتفاق کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملات میں یکسوئی اور متفقہ بیانیہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کے تناظر میں داخلی سلامتی پر جامع گفتگو سے مشترکہ موقف مزید مضبوط ہوا۔
ترجمان پاک فوج نے کشمیر اور غزہ کے حوالے سے پاکستان کے اصولی موقف کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ مظلوموں کی حمایت پاکستان کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دشمن کی نفسیاتی جنگ کے مقابلے کیلئے عوامی شعور اور سچائی پر مبنی بیانیہ فیصلہ کن ہتھیار ہے۔
این پی اے سی نے ریاستی بیانئے کی ترویج کیلئے مساجد، مدارس اور جامعات میں آگاہی اور رہنمائی نشستیں بڑھانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے قومی بیانئے کے فروغ کیلئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے ملاقات کو غیر معمولی طور پر مفید قرار دیتے ہوئے اعتماد اور عملی تعاون کے نئے راستوں پر پیش رفت کی توقع کا اظہار کیا۔




