چھونگ چھنگ (شِنہوا) چینی بہار تہوار کی آمد سے قبل چین کی جنوب مغربی بلدیہ چھونگ چھنگ میں نئے چینی سال کی مناسبت سے ایک میلے کا انعقاد کیا گیا۔ مقامی مصنوعات اور تہوار کے سامان کے ساتھ ساتھ اس میلے میں کئی ممالک کے کھانے اور مخصوص اشیاء بھی پیش کی گئیں جس نے اس تقریب کو ایک منفرد بین الاقوامی رنگ دے دیا۔
میلے کے ایک نمایاں مقام پر پاکستانی سٹال راہگیروں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔

چین کے جنوب مغربی شہر چھونگ چھنگ میں منعقدہ ایک تقریب میں اطالوی پیسٹری شیف فرانکو بر گیمینو چھونگ چھنگ کے شہریوں کو روایتی اطالوی مٹھائی سے متعارف کروا رہے ہیں۔(شِنہوا)
سٹال پر موجود کلیم اکرم آنے والے مہمانوں کو لذیذ پکوانوں کی تجویز دیتے ہوئے کہہ رہے تھے، "براہ کرم یہ مزیدار پکوڑے آزمائیں‘‘۔ بچے انہیں بہت پسند کرتے ہیں۔ یہ پاکستان کا روایتی اسنیک ہے۔
کھانا چکھنے کے بعد اپنے بچے کے ساتھ آئی ہوئی ایک خاتون نے خوشی خوشی کئی اشیاء خریدیں اور کلیم اکرم سے پاکستانی روایتی کھانوں اور ثقافت کے بارے میں تفصیلات توجہ سے سنیں۔ جلد ہی سٹال کے گرد لوگوں کا رش بڑھ گیا۔ پاکستانی کھانوں کے بارے میں جاننے کے ساتھ ساتھ بہت سے لوگوں نے چھونگ چھنگ میں کلیم اکرم کے ریسٹورنٹ میں بھی گہری دلچسپی دکھائی۔

چینی بہار تہوار کی آمد سے قبل چین کی جنوب مغربی بلدیہ چھونگ چھنگ میں نئے چینی سال کی مناسبت سے ایک میلے میں لوگ پاکستانی اسنیکس خرید رہے ہیں۔(شِنہوا)
کلیم اکرم نے کہا کہ میں اس نئے سال کے میلے میں مدعو کئے جانے اور اپنے آبائی شہر کی سوغاتیں اور روایتی کھانے مقامی چینی دوستوں کے ساتھ شیئر کرنے پر بہت خوش ہوں۔ چین میں کئی سالوں سے مقیم کلیم اکرم اس وقت چھانگ چھون اور چھونگ چھنگ میں "ذائقہ” کے نام سے پاکستانی ریسٹورنٹ چین چلا رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چین کی وسیع مارکیٹ اور جامع سماجی ماحول نے کاروبار کے لئے سازگار حالات فراہم کئے ہیں۔
میلے میں دیگر کئی ممالک کے پکوان اور مصنوعات بھی نمائش کے لئے رکھی گئی تھیں۔ اس پررونق ماحول میں یہ تقریب خوراک کے ذریعے ثقافتی تبادلے کا ایک بہترین پلیٹ فارم بن گئی۔
اطالوی تاجر فرانکو نے صحافیوں کو بتایا کہ اطالوی میٹھے اور چاکلیٹس لانے کے علاوہ انہوں نے میلے میں پاکستانی بسکٹ اور ویتنامی سپرنگ رولز بھی چکھے جن کے ایشیائی ذائقے انہیں تازہ اور منفرد محسوس ہوئے۔

چینی بہار تہوار کی آمد سے قبل چین کی جنوب مغربی بلدیہ چھونگ چھنگ میں نئے چینی سال کی مناسبت سے ایک میلے میں صارفین مصنوعات کا انتخاب کر رہی ہیں۔(شِنہوا)
فرانکو نے مزید کہا کہ پاکستانی بسکٹ اور میٹھے نے مجھے خاص طور پر متاثر کیا۔ ایک پیسٹری شیف ہونے کے ناطے مجھے ان میں مصالحوں کا استعمال بہت مختلف اور انوکھا لگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دیگر تاجروں کے ساتھ تبادلہ خیال سے انہیں مختلف ایشیائی ممالک کی غذائی ثقافتوں کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع ملا۔

چین کے جنوب مغربی شہر چھونگ چھنگ میں منعقدہ میلے میں بیلاروس کے سٹال پر موجود عملہ مقامی شہریوں کو اپنے ملک کے روایتی کھانوں اور ذائقوں سے روشناس کرا رہا ہے۔(شِنہوا)
بین الاقوامی کھانوں کے علاوہ میلے میں چینی بہار تہوار کے روایتی لوک کھیل بھی پیش کئے گئے۔ بیلاروس سے آئی ایک سیاح چینی روایتی کھیل ’توہو‘ یا ’پچ پاٹ‘ کی طرف راغب ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کھیل بہت دلچسپ ہے، یہ مغرب کے ڈارٹس سے ملتا جلتا ہے لیکن زیادہ آرام دہ اور تہوار جیسا ماحول رکھتا ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی عناصر سے مزین اس نئے سال کے میلے نے انہیں روایتی چینی ثقافت کے بارے میں نئی بصیرت فراہم کی۔

چین کے جنوب مغربی شہر چھونگ چھنگ میں منعقدہ میلے کے دوران پاکستان کی ایک کاروباری شخصیت کلیم اکرم مقامی رہائشیوں کو پاکستان کے لذیذ پکوان پیش کر رہے ہیں۔(شِنہوا)
چھنگ دو میں پاکستان کے نائب قونصل جنرل چودھری طلحہ نے بھی چینی لوک سرگرمیوں میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی اور غیر ملکی نئے سال کے اس میلے کا ماحول اتحاد اور دوستی کی عکاسی کرتا ہے۔
طلحہ نے کہا کہ میں نے میلے میں پاکستانی مصالحوں کا بھی تعارف کرایا جو سیچھوان اور چھونگ چھنگ میں استعمال ہونے والے مصالحوں سے مماثلت رکھتے ہیں۔ کھانوں کی ثقافت کے ذریعے اس طرح کے تبادلے عوام کے درمیان روابط کے لئے بہترین پل ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین ایک دوسرے کو آہنی بھائی سمجھتے ہیں جن کی دوستی ہمالیہ سے بلند اور سمندروں سے گہری ہے۔
اس تناظر میں عوامی سطح کی سرگرمیاں دونوں ممالک کے عوام کے درمیان مضبوط رشتہ قائم کرتی ہیں۔
طلحہ نے مزید کہا کہ میں اقتصادی اور ثقافتی شعبوں میں پاکستان اور چھونگ چھنگ کے درمیان مستقبل کے تعاون کے امکانات کے بارے میں بھی بہت پرامید ہوں۔




