تیسری چین ترکیہ بزنس کانفرنس ہفتے کے روز استنبول میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں دونوں ممالک کے سرکاری اداروں، تجارتی تنظیموں اور کاروباری کمپنیوں کے 300 سے زائد نمائندوں نے تجارتی ترقی اور تعاون کے نئے مواقع تلاش کئے۔
چائنہ کونسل فار دی پروموشن آف انٹرنیشنل ٹریڈ (سی سی پی آئی ٹی) کے چیئرمین رین ہونگبن کانفرنس میں شرکت کرنے والے چینی کاروباری نمائندوں کے وفد کی قیادت کر رہے تھے۔ رین نے اپنے خطاب میں کہا کہ چین اور ترکیہ قدیم شاہراہِ ریشم کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک دوطرفہ تعاون کی ایک مضبوط بنیاد رکھتے ہیں اور ان کے درمیان مستقبل میں بھی تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
انہوں نے ایسے منصوبوں کا ذکر کیا جو تعاون کے واضح نتائج کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ان منصوبوں میں ترکیہ سے گزرنے والی چین یورپ مال بردار ٹرینیں، چینی اور ترک کمپنیوں کا مشترکہ تعمیر کردہ انقرہ استنبول ہائی اسپیڈ ریلوے اور چین کی منڈی میں پستہ جیسی ترک مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مقبولیت شامل ہیں۔
رین نے کہا کہ سی سی پی آئی ٹی ترک شراکت داروں کے ساتھ مل کر باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور چین ترکیہ تعلقات کو مستقل فروغ دینے کے لئے تیار ہے۔
ترکیہ کے وزیر تجارت عمر بولات نے دوطرفہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات میں حاصل شدہ کامیابیوں شاندار انداز میں سراہا اور کہا کہ چین ترکیہ کے تین سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان پیداوار سے ترسیل تک کے شعبے میں تعاون کی کافی گنجائش موجود ہے جبکہ ترکیہ کو چین کے ساتھ سیاحت کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی بھرپور توقعات ہیں۔
بولات نے کہا کہ چین کا تجویز کردہ ’ایک خطہ ایک سڑک ‘منصوبہ ترکیہ اور چین کے درمیان نقل و حمل اور رابطے کے شعبے میں تعاون کا ایک اہم راستہ بن چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ چینی سرمایہ کاری میں اضافے کو خوش آمدید کہتا ہے اور ترک کمپنیوں کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ چینی منڈی میں مزید مواقع تلاش کریں۔
فورم کے دوران سی سی پی آئی ٹی نے ترکیہ کے فارن اکنامک ریلیشنز بورڈ اور ترک انڈسٹری اینڈ بزنس ایسوسی ایشن کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں کی تجدید کی۔ چائنہ انٹرنیشنل ایگزیبیشن سینٹر گروپ نے جون میں بیجنگ میں منعقد ہونے والی چوتھی چائنہ انٹرنیشنل سپلائی چین نمائش کو متعارف کرایا اور ترکیہ کی اٹا ہولڈنگ کے ساتھ تعاون کی یادداشت پر دستخط کئے ۔
شرکاء نے مصنوعی ذہانت، سیاحت، ہوابازی اور توانائی کے شعبوں میں موضوعاتی مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں بھی کیں۔
استنبول، ترکیہ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ




