وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر صارفین کی نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ پر منتقلی روک دی ہے، فیصلے پر نظرثانی کررہے ہیں، سولر کا مجموعی حجم 20سے 22ہزار میگاواٹ، 6ہزار میگاواٹ حجم کے بجلی صارفین سولر نیٹ میٹرنگ نظام سے منسلک، 12سے 14ہزار میگاواٹ سولر صارفین کا نیٹ میٹرنگ فیصلے سے کوئی تعلق نہیں، حکومت کو 8روپے فی یونٹ بجلی مل رہی ہے، کیا نیٹ میٹرنگ سے 27روپے فی یونٹ بجلی خریداری درست ہے؟۔
اجلاس میں پیپلز پارٹی اراکین کی جانب سے سولر نیٹ میٹرنگ کو نیٹ بلنگ سے تبدیل کرنے کے حکومتی فیصلے پر توجہ دلا نوٹس پیش کیا گیا جس پر وفاقی وزیر اویس لغاری نے کہا کہ اس حوالے سے گزشتہ کئی دنوں سے میڈیا پر بحث جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں معاملے پر اراکین کی جانب سے قرارداد پیش کی گئی جو مسترد ہوئی، اراکین سینیٹ نے حکومتی مو قف کی تائید کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کہ ای سی سی نے سمری کی منظوری دی تاہم وفاقی کابینہ نے توثیق نہیں کی۔
انہوں نے بتایا کہ نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ پر صارفین کی منتقلی کے فیصلے پر عملدرآمد روک دیا گیا، وزیراعظم کی ہدایت پر فیصلے پر نظر ثانی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2017ء میں جب میں وفاقی وزیر تھا تو اس پالیسی کو متعارف کیا گیا تھا، 2017 سے اب تک 4سے 5مرتبہ نیپرا اس میں ریگولیٹری تبدیلیاں لا چکا ہے، لوگوں نے ان ریگولیشنز کو اینٹی سولر قرار دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا، پارلیمنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر مفصل بحث کی گئی ہے، ہماری اپنی سیاسی جماعت سے بھی اس فیصلے کی مخالفت کی گئی، کئی اراکین پارلیمنٹ نے پالیسی کو سولر پالیسی اور عام آدمی کے مفادات کیخلاف قرار دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہم نے 780 ارب کا گردشی قرضہ کم کیا، صنعتی صارفین کیلئے بجلی سستی کی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہ پی ٹی آئی حکومت نے آئی پی پیز کو عدالتوں میں جانے کا موقع دیا جبکہ ہم آئی پی پیز ریٹس نیچے لائے، نظرثانی معاہدے سے 3ہزار 400ارب کا فائدہ ہوا، اس وقت حکومت کو 8روپے فی یونٹ بجلی مل رہی ہے، کیا نیٹ میٹرنگ سے 27روپے یونٹ بجلی خریدنا درست ہے؟ 3کروڑ 50لاکھ صارفین تو نیٹ میٹرنگ پر نہیں ہیں، یہ کسی بھی طرح عوام دوست پالیسی نہیں، جن کو اعتراض ہے وہ مختلف کٹیگریز کے لوگ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت سولر کا حجم 20سے 22ہزار میگاواٹ ہے، 7ہزار میگاوٹ صنعتی و 4ہزار میگاواٹ کمرشل صارف ہیں، مجموعی حجم میں سے 6ہزار میگاواٹ حجم کے 6 سے 7 لاکھ بجلی صارفین سولر نیٹ میٹرنگ نظام سے جڑے ہیں جبکہ 12سے 14ہزار میگاواٹ کے سولر صارفین کا نیٹ میٹرنگ فیصلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔




