نیویارک (شِنہوا) نیویارک سٹی کے لوئر مین ہٹن میں چائنہ انسٹی ٹیوٹ پکوان سنٹر میں نئے چینی سال کی ایک ضیافت کا اہتمام کیا گیا، جس میں بیجنگ سے تعلق رکھنے والے پانچ ماہر شیفس کے تیار کردہ 8 لذیذ کھانوں پر مشتمل شاندار عشائیہ دیا گیا۔
تقریب کا آغاز مشروبات کی ضیافت اور گھوڑے کا سال منانے کے حوالے سے شیر رقص سے کیا گیا، جس کے بعد شرکاء کو ثقافتی تحائف کے بیگز پیش کئے گئے اور ایک نفیس عشائیہ دیا گیا جس سے مہمانوں کو نئے چینی سال کی روایات اور علاقائی کھانوں کا بھرپور تعارف حاصل ہوا۔
چین کے مرکز برائے بین الاقوامی ثقافتی تبادلے و سیاحتی فروغ کے ڈائریکٹر جنرل ژانگ وی گو نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین کا ذائقہ کبھی بھی صرف ذائقے تک محدود نہیں رہا۔یہ چینی ثقافت کا زندہ اظہار ہے اور ایک اہم دریچہ ہے جس کے ذریعے دنیا چین کی تفہیم حاصل کرتی ہے۔
انہوں نے چین اور امریکہ کے درمیان پائیدار تعلق کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بحرالکاہل نے اگرچہ دونوں ممالک کو جدا کر رکھا ہے لیکن عوامی تبادلے دونوں معاشروں کے درمیان سب سے مضبوط رشتہ قائم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپنی منفرد گرمجوشی اور رسائی کی وجہ سے کھانوں کی ثقافت دونوں ممالک کے درمیان باہمی تفہیم کو مستحکم کرنے اور دوستی کو گہر ا کرنے کا فطری ذریعہ بن گیا ہے۔
بورڈ آف دی چائنہ انسٹی ٹیوٹ آف امریکہ کی شریک چیئر پرسن یوئے-سائی کان کے لئے یہ شام چینی ثقافت کو اس کے کھانوں کے ذریعے دکھانے کے لئے مختص تھی۔
انہوں نے کہا کہ چین کے ذائقے کے ایک تصور سے ملک کے کھانوں کی وسیع ثقافت کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا،چینی کھانوں کی ثقافت انتہائی بھرپور اور متنوع ہے۔
بیجنگ سے آئے پانچ شیف اور فنکار نہ صرف کھانا پکانے بلکہ چینی ثقافتی ورثے کے عناصر کو بانٹنے کے لئے بھی آئے تھے۔ پکوانوں کے ساتھ ساتھ مہمانوں کو بیجنگ اوپرا سے متاثر کردار، روایتی مٹھائیاں اور دیگر دستکاری اشیاء دیکھنے کو ملیں جو کھانے کے پس منظر میں موجود ثقافتی روایت کی عکاسی کرتی تھیں۔




