پیر, جنوری 12, 2026
پاکستانچین کی سی آئی آئی ای مارکیٹ میں پاکستانی تاجر کی...

چین کی سی آئی آئی ای مارکیٹ میں پاکستانی تاجر کی کامیابی کی کہانی

شنگھائی (شِنہوا) شنگھائی گلوبل ہاربر کی پانچویں منزل پر واقع سی آئی آئی ای مارکیٹ کے اندر ہمالیائی نمک کا ایک روشن زرد چراغ 18 مربع میٹر پر مشتمل پاکستانی قومی پویلین کو دھیمی روشنی سے منور کر رہا ہے۔ جبکہ پویلین کے اندر پاکستانی تاجر محمد کاشف عزیز روانی سے چینی زبان میں قدرتی قیمتی پتھروں کے گلدان صارفین کو متعارف کرا رہے ہیں اور وضاحت کر رہے ہیں کہ ان کی رگیں فطرت کا تحفہ ہیں۔ہر نمونہ چین اور پاکستان کی دوستی کی طرح منفرد ہے۔

کاشف کا چین-پاکستان کاروباری سفر 2016 میں اس وقت شروع ہوا جب انہوں نے اپنی چینی اہلیہ سے شادی کے بعد شنگھائی میں سکونت اختیار کی۔ ابتدا میں آئی سی کارڈز کی برآمد سے آغاز کیا مگر جلد ہی انہوں نے دونوں منڈیوں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی کو محسوس کیا۔

لاہور اور شنگھائی کے درمیان بار بار کے سفر میں ان کا سوٹ کیس پاکستانی دستکاری کے سامان سے بھرا رہتا جسے غیر متوقع طور پر چینی دوستوں اور رشتہ داروں کی جانب سے بے حد سراہا گیا۔

2سال قبل کاشف نے اپنی توجہ درآمدات کی جانب موڑ دی اور پاکستانی قیمتی پتھر، ہمالیائی نمک کے چراغ، پیتل کی دستکاریاں اور باسمتی چاول چین لانے لگے۔ چائنہ بین الاقوامی درآمدی نمائش (سی آئی آئی ای) کے اثرات کے ساتھ ایک نیا موڑ آیا۔

2025 کے اوائل میں انہوں نے شنگھائی گلوبل ہاربر میں واقع سی آئی آئی ای مارکیٹ میں مقام بنایا جو نمائش کی سال بھر جاری رہنے والی توسیع ہے جس میں33 ممالک کی مصنوعات پیش کی جاتی ہیں۔ چھ دن کی نمائش سے 365 دن کی سرگرمی تک اس پلیٹ فارم نے تجارت اور ثقافتی تبادلے دونوں کے لئے طویل مدتی مواقع فراہم کئے ہیں۔

مقامی ضروریات کے مطابق ڈھلنا کاشف کی کامیابی کی کلید رہا ہے۔ چینی گونگ فو چائے کی ثقافت کے لئے خصوصی طور پر تیار کئے گئے پتھر کے ٹی سیٹس پاکستانی ہنرمندی کو چینی جمالیات کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہیں جو بتدریج صارفین کی پذیرائی حاصل کر رہے ہیں۔

ایک چائے دان،6 کپ اور ایک فیئر کپ پر مشتمل خصوصی تیار کردہ قیمتی پتھر کے چائے کا خوبصورت سیٹ دیکھا جا سکتا ہے۔(شِنہوا)

ہاتھ سے تراشے گئے پیتل کا آرائشی سامان اور ہمالیائی نمک کے چراغ بھی مقبول ہو چکے ہیں جبکہ نمک کے چراغوں نے شنگھائی کے یوگا سٹوڈیوز کے ساتھ اشتراک کی راہ ہموار کی ہے جہاں مراقبہ کے تجربات کے ذریعے قدرتی صحت کے پاکستانی تصورات کو چینی فلاح و بہبود کے نظریات سے جوڑا جا رہا ہے۔

ایک چھوٹے خاندانی کاروبار سے سرکاری طور پر منظور شدہ قومی پویلین تک شنگھائی میں کاشف کا 10 سالہ سفر چین اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی اور ثقافتی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ دنیا بھر کی مصنوعات کے درمیان ان کے قیمتی پتھر، نمک کے چراغ اور پیتل کی دستکاریاں ثقافتی سفیر بن چکی ہیں جو تجارت سے آگے بڑھ کر دوستی کا پیغام پہنچا رہی ہیں۔

کاشف کہتے ہیں کہ سی آئی آئی ای ایک پل ہے، مارکیٹ ایک بندرگاہ ہے اور ثقافت بنیاد ہے۔ آئندہ وہ شنگھائی کی جامعات کے ساتھ پاکستانی دستکاری کی ورکشاپس پر تعاون کرنے اور ایسے ڈیزائن تلاش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو غیر مادی چینی ثقافتی ورثے پر مشتمل ہوں تاکہ تجارت اور ثقافت کے ذریعے باہمی فہم کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!