لاہور ہائیکورٹ نے ناصر باغ پارک کی بحالی کا حکم دیتے ہوئے آئندہ سماعت پر عملدرآمد رپورٹ طلب کرلی۔
پیر کو لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس شاہد کریم نے شہری ہارون فاروق سمیت دیگر درخواست کی سموگ تدارک بارے درخواستوں پر سماعت کی۔
ممبر جوڈیشل واٹر کمیشن نے کینال روڈ سے درختوں کی کٹائی بارے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ درخت کاٹے نہیں گئے بلکہ صرف شاخیں کاٹی گئی ہیں، تین بڑی شاخیں انڈر پاس کی جانب بڑھ رہی تھیں۔
وکیل پی ایچ اے نے مو قف اپنایا یہ روٹین کی کارروائی تھی، شاخیں نہ کاٹنے کی صورت میں حادثہ پیش آسکتا تھا۔
جسٹس شاہد کریم نے استفسار کیا کہ درخت کی وجہ سے کیا حادثہ پیش آسکتا تھا اور اب تک کتنے حادثات ہوئے ہیں؟۔
وکیل پی ایچ اے نے بتایا کہ پی ایچ اے نے پراجیکٹ ڈائریکٹر کو معطل کر کے پیڈ ایکٹ کے تحت کارروائی شروع کردی ہے۔
بیرسٹر حارث عظمت نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نئے پراجیکٹ ڈائریکٹر عدالت میں موجود ہیں، داتا دربار کے قریب ٹیپا نے ایک پرانے درخت کو اکھاڑنے کی کوشش کی جس پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
جسٹس شاہد کریم نے حکم دیا کہ ناصر باغ کے پارک کو پی ایچ اے اپنی نگرانی میں بحال کرے، عدالت نے واضح کیا کہ آئندہ ڈی جی پی ایچ اے کی اجازت اور علم کے بغیر کسی بھی درخت کی شاخیں نہیں کاٹی جائیں گی۔
بعد ازاں عدالت نے آئندہ تاریخ پر ناصر باغ پارک بحالی بارے عمل درآمد رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔




