منگل, فروری 10, 2026
تازہ ترینچینی کمپنیاں افریقہ میں ماحول دوست توانائی کے فروغ میں نمایاں کردار...

چینی کمپنیاں افریقہ میں ماحول دوست توانائی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں، صنعتی حکام کی رائے

افریقہ کے سینیئر صنعتی حکام کا کہنا ہے کہ افریقی ممالک نے ماحول دوست  توانائی کے فروغ کے لئے چینی کمپنیوں کی سرمایہ کاری اور تکنیکی مہارت سے فائدہ اٹھایاہے ۔اس میں شمسی، جیوتھرمل اور ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی شامل ہے۔

کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں بدھ کے روز  "انٹرسولر افریقہ 2026 ” کے اختتام کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے سینئر حکام نے افریقہ کے توانائی کے شعبے میں کاربن اخراج میں کمی کرنے میں چینی کمپنیوں کے کردار کو سراہا۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): سینتھنیا انگویا موہاتی، قائم مقام چیف ایگزیکٹو آفیسر،کینیا رینیو ایبل انرجی ایسوسی ایشن

"نمائش کنندگان میں زیادہ تعداد چینی کمپنیوں کی ہے۔ میں یہ کہوں گی کہ وہ ہماری توقعات کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہیں۔ اس وقت مجھے یہ بھی کہنا ہے کہ چینی کمپنیوں نے  یہاں بہت زیادہ کام کیا۔ چینی کمپنیوں نے کینیا میں سرمایہ کاری کی اور تقسیم کے مراکز قائم کئے۔ میں سمجھتی ہوں کہ اپنے ڈسٹری بیوٹرز اور سپلائرز کو ماحولیاتی نظام میں جس قسم کی تربیت وہ دے رہے ہیں میرے خیال میں یہی ان کا  بنیادی کردار ہے۔ وجہ یہ ہے کہ  ان کی مصنوعات ہر جگہ دستیاب ہیں۔”

انہوں نے بتایا کہ شمسی توانائی مصنوعات بنانے والے اداروں نے افریقہ میں سپلائی کا مضبوط  نظام قائم کیا ہے جبکہ وہ تقسیم کاروں اور ماحول دوست توانائی سے وابستہ دیگر افراد کو تربیت بھی دے رہے ہیں۔

 شمسی توانائی اور توانائی ذخیرہ کرنے سے متعلق مشرقی افریقہ کی سب سے بڑی نمائش  اور  کانفرنس کے اس دو روزہ ایونٹ میں نئی توانائی کی درجنوں چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔

انگویا موہاتی کا کہنا ہے کہ چینی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی نے افریقہ کی قابلِ تجدید توانائی کی منڈی میں نئی جان ڈال دی ہےجبکہ گھریلو اور صنعتی صارفین کی ضروریات کو بھی پورا کیا ہے۔

جنوبی افریقہ کی فوٹو وولٹائک انڈسٹری ایسوسی ایشن کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ریتھیبائیل میلامو کا کہنا ہے کہ چینی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری سے سولر ماڈیولز، انورٹر سسٹمز اور ماؤنٹنگ اسٹرکچرز جیسے اہم سولر اجزا اب عام مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): ریتھیبائیل میلامو، چیف ایگزیکٹو آفیسر، ساؤتھ افریقہ فوٹو وولٹائیک انڈسٹری ایسوسی ایشن

"چینی کمپنیوں نے اہم سولر اجزا، ماڈیولز، اِنورٹر سسٹمز اور بعض صورتوں میں ماؤنٹنگ اسٹرکچرز کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اسی وجہ سے ہم جنوبی افریقہ کی منڈی میں چینی کمپنیوں کے ساتھ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے واقعی اہم کردار ادا کیا۔

اب ہم ان کے ساتھ اس بات پر بات چیت کر رہے ہیں کہ چین سے درآمد ہونے والے بعض پرزے خاص طور پر ماؤنٹنگ اسٹرکچرز اور اِنورٹرز جنوبی افریقہ میں مقامی سطح پر ہی تیار کئے جائیں۔ اس وقت مقامی منڈی  میں روزگار کے مواقع  پیدا کرنے کی  اشد ضرورت ہے۔ ہمیں ان کمپنیوں کی جانب سے ملنے والے تعاون کی دل سے قدر ہے۔”

میلامو نے کہا کہ چینی کمپنیوں کے ساتھ دوطرفہ فائدے کی شراکت داری کے ذریعے افریقی ممالک توانائی کی منتقلی میں فائدہ اٹھائیں گے۔ اس سے ترقی کو فروغ ملے گا اور مہارتوں کی منتقلی نوجوانوں کو بااختیار بنائے گی۔

نائیجیریا رینیوایبل انرجی ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر  آیو آڈیمیلوا نے کہا کہ نئی توانائی کی چینی کمپنیوں نے افریقی منڈی کو کھلے دل سے اپنایا ہے۔ ان کمپنیوں نے یہاں سرمایہ کاری کی ہے تاکہ مقامی آبادی ماحولیاتی طور پر مستحکم ہو اور اس کے پائیدار مستقبل کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ چینی کمپنیاں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور اہم اجزاء تیار کرنے والے کارخانے قائم کر کے افریقہ کی ماحول دوست منتقلی میں اہم کردار ادا کرتی رہیں گی۔

ساؤنڈ بائٹ3 (انگریزی):  آیو آڈیمیلوا، چیف ایگزیکٹو آفیسر، نائیجیریا رینیو ایبل انرجی ایسوسی ایشن

"میرے خیال میں اصل سازوسامان بنانے والی چینی کمپنیاں (او ای ایم ایس) نائیجیریا میں قابل تجدید توانائی کی صنعت میں موجودہ مصنوعات کے بہاؤ میں شاید سب سے بڑا حصہ ڈالتی ہیں۔ اس طرح وہ نائیجیریا میں بجلی کی دستیابی اور سپلائی کی قابلِ اعتماد سطح کو بہتر بنا رہی ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ چینی کمپنیاں  خاص طور پار ٹیکنالوجی کی منتقلی میں بہت بڑا کردار ادا کریں گی۔ ہم چاہتے ہیں کہ افریقہ میں مزید فیکٹریاں قائم کی جائیں۔  ٹیکنالوجی کی منتقلی میں مزید کام ہو جس میں تربیت، انجینئرنگ کی تربیت، مشینوں کی دیکھ بھال، بعد از فروخت تربیت اور دیگر متعلقہ امور شامل ہوں۔ اسی لئے ہم دیکھ رہے ہیں کہ چینی کمپنیاں اگلے چند برسوں میں افریقہ میں قابلِ تجدید توانائی کی ترقی میں نمایاں حصہ ڈالیں گی۔”

نیروبی، کینیا سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!