اردن میں ’’ہیپی چائنیز نیو ایئر‘‘ کی تقریبات ہفتے کے روز عمان کے قومی مرکز برائے ثقافت و فن میں منعقدہ چینی ثقافتی وسیاحتی مارکیٹ کے انعقاد کے ساتھ ہی اختتام پذیر ہو گئیں۔
ثقافتی وسیاحتی مارکیٹ میں چین اور اردن کے درمیان ثقافتی تبادلے اور عوامی سطح پر بڑھتے ہوئے رابطوں کو اجاگر کیا گیا۔
یہ تقریب عمان میں قائم چینی ثقافتی مرکز نے ٹی اے جی کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ اور فلاڈیلفیا یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے تعاون سے منعقد کی۔ اس میں شرکاء کو چین کی روایتی اور جدید ثقافت کا بھرپور اور دلکش تجربہ فراہم کیا گیا۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (عربی): سلمہ نعمت، مہمان
"آج مجھے فیسٹیول مارکیٹ میں شرکت کا موقع ملا۔ کئی خوبصورت پروگراموں اور دلچسپ سرگرمیوں کے ساتھ یہاں سب کچھ واقعی بہت شاندار تھا۔ میں نے اب تک کچھ سرگرمیوں میں حصہ لیا ہے اور انہیں جاری رکھنے کے لئے پُرجوش ہوں۔”
ساؤنڈ بائٹ 2 (عربی): جود حرب، مہمان
"ہر چیز کی اپنی ایک منفرد دلکشی تھی، ہر گوشے میں کشش نظر آئی۔ ہم نے بہت سی نئی باتیں سیکھیں۔ یہ ایک بہت پرانی تہذیب ہے۔ اسے وہ انتہائی خوبصورت انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔”
عمان سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
عمان میں نئے چینی سال کی تقریبات جوش و جذبے سے منائی گئیں
ثقافتی مارکیٹ نے تہوار کے ماحول کا لطف دوبالا کر دیا
چین اور اردن کے درمیان ثقافتی تبادلے کو اجاگر کیا گیا
چینی ثقافتی مرکز اور کنفیوشس انسٹی ٹیوٹس نے مل کر تقریب منعقد کی
شرکاء کو چین کی روایتی اور جدید ثقافت کا تجربہ ملا
مارکیٹ میں خوبصورت اسٹالز اور دلچسپ سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا تھا
سیاحوں نے مختلف پروگراموں میں جوش و خروش سے حصہ لیا
ہر اسٹال میں منفرد دلکشی اور چین کی قدیم ثقافت نظر آئی
شرکاء چینی ثقافت سے آگاہ ہوئے اور ثقافتی تجربہ حاصل کیا
تقریبات سے چین اور اردن کے عوامی رابطے مزید مستحکم ہوئے




