منگل, فروری 10, 2026
پاکستانسندھ کابینہ، انڈس ڈیلٹا کے مزید 4 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے...

سندھ کابینہ، انڈس ڈیلٹا کے مزید 4 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے کو محفوظ جنگلات، کنزیومر کورٹس کو ٹریفک کورٹس قرار دینے کی منظوری دے دی

سندھ کابینہ نے انڈس ڈیلٹا کے مزید 4 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے کو محفوظ جنگلات، کنزیومر کورٹس کو ٹریفک کورٹس قرار، گرہور شریف پولیس پوسٹ کو مکمل پولیس سٹیشن بنانے کی منظوری دے دی جبکہ وزیراعلی مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ سے مشاورت کے بعد ہر ضلع کی کنزیومر کورٹ کو ٹریفک کورٹ کا اختیار دیا جائیگا، اقدام سے ٹریفک جرائم کے تیز رفتار ٹرائل کیلئے نئی عدالتی عمارتوں کی فوری ضرورت نہیں رہے گی۔

ترجمان وزیراعلی سندھ کے مطابق منگل کو سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں سندھ کابینہ کو محکمہ جنگلات و جنگلی حیات نے انڈس ڈیلٹا کے ماحولیاتی تحفظ کیلئے پریزنٹیشن پیش کی۔

ترجمان نے بتایا کہ اجلاس میں ضلع سجاول کے لاکھوں ایکڑ رقبے کو محفوظ جنگلات قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے جس پر کابینہ نے ضلع سجاول کے 163,902 ہیکٹرز یعنی 405,002 ایکڑ پر مشتمل ساحلی اراضی کو محفوظ جنگلات قرار دینے کی منظوری دیدی۔

ترجمان کے مطابق اس وقت انڈس ڈیلٹا کے 566,298 ہیکٹرز پہلے ہی محفوظ جنگلات قرار دیئے جا چکے ہیں جن میں ضلع ٹھٹو کا 241,374 ہیکٹر اور ضلع سجاول کا 324,924 ہیکٹر رقبہ شامل ہے۔

ترجمان کے مطابق کابینہ نے سندھ بھر میں کنزیومر کورٹس کو ٹریفک کورٹس قرار دینے کی بھی منظوری دی، ای چالان کے فوری فیصلے کیلئے کنزیومر کورٹس کو ٹریفک کورٹس کے اختیارات ملیں گے۔ جرائم کی بڑھتی شرح و آبادی میں تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے سندھ کابینہ نے انتظامی تبدیلیوں کی بھی منظوری دی۔

اجلاس میں گرہور شریف (میرپورخاص) کی پولیس پوسٹ کو مکمل پولیس سٹیشن بنانے کی بھی منظوری دی گئی۔

گرہور شریف پولیس پوسٹ فلنڈیوں تھانے سے 22 کلومیٹر دور ہونے کے باعث اپ گریڈ کیا گیا ہے۔

اجلاس میں آبادی میں اضافے و بڑھتے جرائم کے پیش نظر پولیس سٹیشن ملاک کو پولیس پوسٹ میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، پولیس پوسٹ ملاک اب پولیس اسٹیشن کورائی (سب ڈویژن مورو، نوشہرو فیروز) کے انتظامی کنٹرول میں کام کرے گی۔

اس موقع پر وزیراعلی سندھ نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ سے مشاورت کے بعد ہر ضلع کی کنزیومر کورٹ کو ٹریفک کورٹ کا اختیار دیا جائے گا، اقدام سے ٹریفک جرائم کے تیز رفتار ٹرائل کیلئے نئی عدالتی عمارتوں کی فوری ضرورت نہیں رہے گی۔

انٹرنیوز
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!