اتوار, جنوری 11, 2026
تازہ ترینبیجنگ میں چین جنوبی کوریا بزنس فورم، کاروباری شخصیات نے مشترکہ ترقی...

بیجنگ میں چین جنوبی کوریا بزنس فورم، کاروباری شخصیات نے مشترکہ ترقی اور تعاون کے نئے مواقع تلاش کئے

پیر کے روز بیجنگ میں منعقدہ ایک کاروباری فورم میں چین اور جنوبی کوریا کی حکومتوں اور کاروباری حلقوں کے تقریباً 400 نمائندے شریک ہوئے ہیں۔

چین جنوبی کوریا بزنس فورم کا انعقاد چائنہ  کونسل فار دی پروموشن آف انٹرنیشنل ٹریڈ (سی سی پی آئی ٹی) اور کوریا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) نے مشترکہ طور پر کیا۔

دونوں ممالک کی کاروباری شخصیات نے دوطرفہ اقتصادی تعاون کے مستقبل کے حوالے سے بلند توقعات کا اظہار کیا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (کوریائی): لی دونگ شینگ، بانی و چیئرمین، ٹی سی ایل

"ٹی سی ایل جنوبی کوریا کے کاروباری اداروں کے ساتھ وسیع پیمانے پر تعاون کر رہا ہے۔ سال 2025 میں ٹی سی ایل اور جنوبی کوریائی کمپنیوں کے درمیان تجارت کا مجموعی حجم 23 ارب یوآن (تقریباً 3 ارب 29 کروڑ امریکی ڈالر) سے تجاوز کر گیا۔ ٹی سی ایل سام سنگ، ایل جی، ہنڈائی موٹر اور دیگر اداروں کے ساتھ مضبوط شراکت داری برقرار رکھے ہوئے ہے۔ دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے لئے ضروری ہے کہ وہ صنعتی سلسلوں اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کے ذریعے باہمی فائدے اور مشترکہ مفاد کے مزید مؤثر طریقے تلاش کریں۔”

ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): کم یونگ مِن، چیئرمین، کوریا میڈیکل ڈیوائسز انڈسٹری ایسوسی ایشن

"طبی آلات کی صنعت اور خصوصاً اس کی پیداوارسازی میں حکومت اور کاروباری اداروں کا تعاون نہایت ضروری بھی ہے اور اہم بھی۔ چین اور جنوبی کوریا میں طبی آلات کے شعبے کی تیز رفتار ترقی کے پیشِ نظر میں اس شاندار ہم آہنگی کے امکانات کے لئے پرامید ہوں جو دوطرفہ تعاون کے نتیجے میں سامنے آئے گی۔”

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین مسلسل 21 برس سے جنوبی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار رہا ہے۔

سال 2025 کے پہلے 11 ماہ میں چین اور جنوبی کوریا کے درمیان تجارت میں مستحکم اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس دوران چین کی جنوبی کوریا کے ساتھ درآمدات و برآمدات 1.6 فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ 20 کھرب 14 ارب یوآن (تقریباً 304.46 ارب امریکی ڈالر) تک پہنچ گئیں۔

ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): چوئی جی مان، چینی چیف ایگزیکٹو آفیسر، کمپوز کافی

"ہم چینی منڈی میں توسیع کے خواہاں ہیں۔ اس منڈی میں بہت زیادہ مواقع موجود ہیں۔ یہاں کافی کا کاروبار اور صنعت بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ امید ہے کہ ہم رواں برس کی اس سہ ماہی میں اس میں کامیابی حاصل کر سکیں گے۔

اسی موقع کے ذریعےدونوں ممالک کے لوگوں کے لئے ایک دوسرے کو جاننا اور مضبوط نیٹ ورک قائم کرنا بہت اہم ہے۔”

ساؤنڈ بائٹ 4 (چینی): انتھونی لی، جنرل سیلز منیجر، ڈورکو شنگھائی برانچ

"ہم نے اپنی شنگھائی برانچ دس برس پہلے قائم کی تھی اور تب سے مسلسل نئی منڈیوں کو ترقی دے رہے ہیں اور نئے صارفین حاصل کر رہے ہیں۔ ہماری کمپنی کے تیار کردہ ریزرز ذاتی نگہداشت کی مصنوعات کے زمرے میں آتے ہیں یعنی مارکیٹ کا حجم ہر ملک کی آبادی کی بنیاد پر شمار کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے چین کو ہمارے لئے سب سے بڑی منڈی سمجھا جا سکتا ہے۔”

ساؤنڈ بائٹ 5 (چینی): کانگ ہوگُو، ڈائریکٹر، چائنہ کوریا اکانومی/سوسائٹی انسٹی ٹیوٹ

"جنوبی کوریا اور چین کے درمیان دوطرفہ تجارت کئی سالوں سے مسلسل ترقی کر رہی ہے۔ دونوں معیشتیں مواقع کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہیں۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، خدمات کے شعبے میں تجارت اور ماحول دوست تبدیلی جیسے شعبے دونوں فریقین کے لئے ترقی کی اولین ترجیحات ہیں۔فریقین کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہباہمی  رابطے مضبوط کریں، مشترکہ تعاون کے منصوبے مل کر  تیار کریں اور تعاون کے نئے شعبوں کو وسعت دیں۔”

بیجنگ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹیکسٹ آن سکرین:

بیجنگ میں چین جنوبی کوریا بزنس فورم میں کاروباری رہنماؤں نے شرکت کی

فورم میں تجارت ٹیکنالوجی طبی آلات اور ماحول دوست معیشت پر گفتگو ہوئی

چین اور جنوبی کوریا کے درمیان اقتصادی تعاون سے بڑی توقعات وابستہ کی گئیں

کاروباری شخصیات نے مشترکہ ترقی کے لئے نئے مواقع تلاش کرنے پر زور دیا

چین اکیس برس سے جنوبی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے

سال 2025 میں دوطرفہ تجارت میں مستحکم اضافہ ریکارڈ کیا گیا

مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت دونوں ممالک کی اہم ترقیاتی ترجیحات ہیں

چینی اور جنوبی کوریائی کمپنیاں نئی منڈیوں میں توسیع کی خواہاں ہیں

بزنس فورم میں رابطے مضبوط بنانے اور نیٹ ورک بڑھانے پر اتفاق ہوا

ماہرین نے باہمی تعاون سے روشن معاشی مستقبل کی امید ظاہر کی

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!