امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جنگ کے بعد ایران کا نقشہ شاید ویسا نہیں نظر آئیگا جیسا ابھی ہے۔
ایئر فورس ون طیارے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کیساتھ کسی سمجھوتے یا سیٹلمنٹ کی تلاش میں نہیں، ہم ایران میں ایسا صدر چاہتے ہیں جو ملک کو جنگ کی طرف نہ لے جائے، وہ نہیں چاہتے کہ کرد فورسز ایران میں داخل ہوں، برطانیہ اب مشرق وسطی میں 2 طیارہ بردار جہاز بھیجنے پر غور کر رہا ہے تاہم اب ہمیں برطانیہ کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے کہا ہم برطانیہ کی یہ بات یاد رکھیں گے، امریکا کو ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں جو جنگ جیتنے کے بعد شامل ہوں۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ روس کی جانب سے ایران کی مدد کے کوئی شواہد نہیں ملے، انہوں نے الزام لگایا کہ ایران کے ایلیمینٹری سکول پر حملہ ایران ہی نے کیا تھا تاہم انہوں نے اسکا ثبوت نہیں دیا۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تیل کی قیمتیں بہت تیزی سے نیچے آئیں گی۔
دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے جواز سے متعلق صدر ٹرمپ اپنا موقف بار بار بدلتے رہے ہیں تاہم انکی جانب سے اب یہ کہنا کہ جنگ کے بعد ایران کا نقشہ شاید ویسا نہیں نظر آئیگا جیسا ابھی ہے، خطے کیلئے انتہائی تشویشناک ہے۔




