سال 2025 تک چین کے شمال مغربی خودمختار علاقے سنکیانگ سے ترسیل شدہ بجلی کی مجموعی مقدار دس کھرب کلو واٹ آور سے تجاوز کر گئی ہے۔
سنکیانگ اب چین کے 22 صوبوں کو بجلی فراہم کر رہا ہے جس میں سے 29.6 فیصد بجلی سورج کی روشنی اور ہوا جیسے نئی توانائی کے ذرائع سے حاصل کی جا رہی ہے۔
سال 2010 کے آغاز سے اس ماحول دوست بجلی کی فراہمی نے تقریباً آٹھ کروڑ 95 لاکھ ٹن کوئلے کی کھپت اور 24 کروڑ ٹن کاربن اخراج میں کمی کی ہے۔
سنکیانگ نئی توانائی کے آلات کی تیاری کے شعبے کو تیزی سے فروغ دے رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ چین کی ہوا سے بجلی بنانے کی صنعت کا ایک اہم مرکز بھی بن رہا ہے۔ سنکیانگ دنیا کے سب سے بڑے فوٹو وولٹک سلیکون پیداواری مراکز میں سے ایک ہے۔
ارمچی، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
سنکیانگ اب چین کے 22 صوبوں کو بجلی مستحکم انداز میں فراہم کر رہا ہے
ترسیل شدہ بجلی کی مجموعی مقدار دس کھرب کلو واٹ آور سے تجاوز کر گئی
تقریباً 30 فیصد بجلی سورج اور ہوا جیسے جدید ذرائع سے حاصل ہوئی
ماحول دوست بجلی سے کوئلے کے استعمال میں واضح اور نمایاں کمی آئی
کاربن اخراج میں 24 کروڑ ٹن سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے
سنکیانگ نئی توانائی کے آلات کی تیاری میں بھی تیزی سے ترقی کر رہا ہے
سنکیانگ چین میں ہوا سے بجلی بنانے کی صنعت کا ایک اہم مرکز بن گیا
دنیا کے سب سے بڑے فوٹو وولٹک سلیکون پیداوار مراکز میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل
سال 2010 سے بجلی ترسیل کا منصوبہ مسلسل ماحول دوست نتائج فراہم کر رہا ہے
سنکیانگ کی توانائی چین کے ماحول دوست مستقبل کی مضبوط بنیاد بن گئی




