چھانگ چھون(شِنہوا)’’تقریباً 19 کلوگرام فروخت ہو گئی ہے’’۔ خوشی کے یہ نعرے اس وقت بلند ہوئے جب موسم سرما میں ماہی گیری کے آغاز کی علامتی “پہلی مچھلی”، جو خوش بختی اور خوشحالی کی علامت بھی سمجھی جاتی ہے، چین کے شمال مشرقی صوبے جی لین کے سونگ یوآن شہر کی چھاگان جھیل کی منجمد سطح پر کامیابی کے ساتھ نیلام کی گئی۔
صاف آسمان کے نیچے چھاگان جھیل میں ماہی گیری اور شکار کے 24 ویں ثقافتی سیاحتی میلے کی افتتاحی تقریب میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ دوپہر کے وقت پہلے جال نے برف کو توڑتے ہوئے بڑی مچھلیوں کو جمی ہوئی جھیل کی سطح پر اچھال دیا، جو چھاگان جھیل کی سرمائی ماہی گیری کی روایت کا نمایاں منظر ہے۔
چین میں میٹھے پانی کی 10 بڑی جھیلوں میں سے ایک چھاگان جھیل، جسے منگول زبان میں’’چھاگان نور ‘‘یا ’’سفید جھیل‘‘ کہا جاتا ہے، نے ایک ہزار سال سے زیادہ عرصے سے شمالی نسلی اقلیتی برادریوں کے ماہی گیری کے قدیم طریقہ کار کو محفوظ رکھا ہواہے۔سرمائی ماہی گیری کی اس روایت کو 2008 میں غیرمادی قومی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔
آج آئس اینڈ سنو لوک روایات مقامی سیاحت اور روزگار کے کلیدی محرک بن چکے ہیں۔جھیل کے قریب قائم ریستوران گاہکوں سے بھرے ہوئے ہیں، جہاں سیاحوں کو تازہ پکڑی ہوئی مچھلی پیش کی جاتی ہے۔ جیسے ہی شام ڈھلتی ہے، وانگ جیا جی کا فش ریسٹورنٹ، جو جھیل کے قریب ہے، رات کا کھانا کھانے والے گاہکوں سے بھر گیا۔ لوہے کی بڑی دیگچیاں ابلتے ہوئے مچھلی کے سالن سے بھری تھیں جن کی خوشبو فضا میں پھیل رہی تھی جبکہ مچھلی کے مکمل ضیافتی کھانوں سے سجی میزیں دور دراز سے آنے والے سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ رہی تھیں۔
64 سالہ وانگ جیا جی، جو چھاگان جھیل کے مقامی رہائشی ہیں، یہ ریسٹورنٹ تین دہائیوں سے چلا رہے ہیں۔ ان کا کاروبار جو 100 مربع میٹر کے دو چھوٹے کمروں پر مشتمل تھا اب 900 مربع میٹر کے ریسٹورنٹ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس سال انہوں نے اپنے کاروبار کو مزید بڑھانے کے لئے مزید سرمایہ کاری کی ہے۔
بنیادی ثقافتی کشش کی وجہ چھاگان جھیل کی سیاحتی قدر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اس میلے کی طرف بین الاقوامی سیاح بھی راغب ہو رہے ہیں۔سیپن سے تعلق رکھنے والے ایک فوٹو گرافر لوئس نے کہا کہ میں پہلی مرتبہ یہاں آیا ہوں اور یہاں کا منظر نامہ دل موہ لینے والا ہے۔
نقل وحمل کے جدید ذرائع نے اس قدیم روایتی رسم کو مکمل کر دیا ہے۔ سیاح موقع پر مچھلی خرید سکتے ہیں اور اسے ملک بھر میں بھجوا سکتے ہیں۔ چین کی بڑی ای کامرس کمپنی جے ڈی ڈاٹ کام کے مطابق سیاحتی مقام پر پیکنگ سٹیشن کی تعداد 3 سے بڑھ کر 12 ہو گئی ہے جس سے ایک مچھلی کو پیک کرنے کا وقت 5 منٹ سے کم ہو کر صرف 30 سیکنڈ ہو گیا ہے۔
ثقافتی ورثے کو جدید صنعت کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے، چھاگان جھیل کی موسم سرما کی ماہی گیری مقامی معیشت کو مسلسل تقویت دے رہی ہے اور ساتھ ہی صدیوں پرانی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔




