چھانگ چھون (شِنہوا) چین کے شمال مشرقی صوبے جی لین کے شہر سونگ یوآن میں چھاگان جھیل کی جمی ہوئی سطح پر منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ میں برف توڑنے والی چھینیوں کے موٹی برف سے ٹکرانے سے تیز آوازیں گونج رہی ہیں۔ چند ہی لمحات میں جمی ہوئی جھیل کی تہہ سے مچھلیوں کے غول امڈ پڑتے ہیں جو برف کے ٹکڑے بکھیرتے ہوئے مقامی ماہی گیر برادری کے لئے ایک اور سرمائی شکار کی نوید بن جاتے ہیں۔
چھاگان جھیل کے مچھلی کے شکار اور شکاری ثقافت کے 24 ویں سیاحتی میلے کا افتتاح جمعرات کو یہاں ہوا۔ ماہی گیری کے مقام پر تیز ٹھنڈی ہوا میں پیلے جھنڈے لہرا رہے تھے جبکہ درجنوں ماہی گیر اپنے سربراہ کی مسلسل نگرانی میں مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ برف میں سوراخ کئے گئے اور رہنمائی کے لئے کھمبے ڈالے گئے جس کی مدد سے ایک کلومیٹر سے زیادہ لمبا جال جمی ہوئی برف کے نیچے آہستہ آہستہ کھلنے لگا۔
جیسے ہی گھوڑوں نے چرخی کو گھمایا جال بتدریج جھیل سے باہر کھینچا گیا جس سے برف پر مچھلیوں کے اچھلنے کودنے کا وہ تاریخی منظر دوبارہ زندہ ہو گیا جو صدیوں سے چھاگان جھیل کے سرمائی شکار کی پہچان رہا ہے۔
ایک سینئر ماہی گیر بنگ حئی لونگ نے بتایا کہ برف اس وقت تقریباً 60 سینٹی میٹر موٹی ہے۔ ہم صبح ساڑھے 7 بجے جھیل پر آجاتے ہیں اور دوپہر کے بعد مچھلیاں نکالنے کا کام شروع ہوتا ہے۔ اس سال ایک ہی بار جال ڈالنے میں ہمارا سب سے بڑا شکار تقریباً 90 ہزار کلو گرام تک پہنچ گیا۔
سرمائی ماہی گیری کے اس عمل میں سینئر ماہی گیروں کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے کیونکہ مچھلیوں کے غول کی جگہ کا تعین کرنا انہی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
ایک بار جگہ کا تعین ہو جائے تو ماہی گیر برف میں داخلے اور اخراج کے سوراخ کرتے ہیں، رہنمائی کرنے والی سلاخیں ڈالتے ہیں اور آہستہ آہستہ برف کے نیچے جال پھیلاتے ہیں۔ جال نکالنے کے آخری مرحلے کا انحصار گھوڑوں سے چلنے والی چرخی پر ہوتا ہے جس کے گرد 4 سے 6 گھوڑے مسلسل چکر لگاتے ہیں اور پانی سے بھاری جال کو باہر کھینچتے ہیں۔

چین کے شمال مشرقی صوبے جی لین کے شہر سونگ یوآن میں چھاگان جھیل کی منجمد سطح پر گھوڑوں سے چلنے والی ونچ دکھائی دے رہی ہے۔(شِنہوا)
چھاگان جھیل میں ماہی گیری کے ایک پرانے کارکن شان جون گو نے بتایا کہ ہم 6 انچ کے سوراخوں والے جال استعمال کرتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ صرف بڑی اور بالغ مچھلیاں ہی پکڑی جائیں۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ہر سال موسم گرما اور موسم خزاں میں جھیل میں مچھلیوں کے بچے چھوڑے جاتے ہیں اور افزائش نسل و شکار کے حوالے سے سائنسی طریقوں پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے۔
شان نے مزید کہا کہ یہ اقدامات موجودہ پیداوار کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مستقبل کے لئے مچھلیوں کے ذخائر کو برقرار رکھتے ہیں۔ یہ چھاگان جھیل کی ماہی گیری کی پائیدار ترقی کو یقینی بناتے ہیں اور ہر سال مستحکم پیداوار حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

چین کے شمال مشرقی صوبے جی لین کے شہر سونگ یوآن میں ایک ماہی گیر تازہ پکڑی گئی مچھلی گاڑی پر لوڈ کر رہا ہے۔(شِنہوا)
چین میں میٹھے پانی کی 10 بڑی جھیلوں میں سے ایک چھاگان جھیل، جسے منگول زبان میں ’’چھاگان نور‘‘ یا ’’سفید جھیل‘‘ کہا جاتا ہے، نے ایک ہزار سال سے زیادہ عرصے سے شمالی نسلی برادریوں کے مچھلی پکڑنے کے قدیم طریقوں کو محفوظ کر رکھا ہے۔ سرمائی ماہی گیری کی اس روایت کو 2008 میں قومی غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔




