ہاربن(شِنہوا)سی این این کے نمائندے مائیک ویلریو نے ‘ہاربن آئس اینڈ سنو ورلڈ’ میں سیاحوں کے ہجوم کے درمیان نئے سال کا جشن منایا۔ انہوں نے نقطہ انجماد سے نیچے کے درجہ حرارت میں دنیا بھر کے ناظرین کو اس میلے سے روشناس کرایا جسے انہوں نے "دنیا کا سب سے بڑا سرمائی میلہ” قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ شہر دنیا کے مختلف مقامات سے آنے والے سیاحوں کے لئے چین کا ایک اور چمکتا دمکتا مرکز بن چکا ہے۔
مغرب میں بہت سے لوگوں کے لئے ہاربن کا نام شائد فوری طور پر جانا پہچانا نہ ہو۔ چین کے شمال مشرقی صوبے حئی لونگ جیانگ کا یہ دارالحکومت اکثر چین کے پرانے صنعتی اڈے کے طور پر پہچانا جاتا ہے جہاں شہر کے افق پر کارخانوں کی چمنیاں اور چھتیں غالب نظر آتی تھیں۔
تاہم ویلریو کے کیمرے کی نظر سے وہ تصویر مکمل طور پر مٹ گئی اور اس کی جگہ بلند برفانی مجسموں اور چمکتی ہوئی قندیلوں سے سجی ہوئی دلکش افق کی منظر کشی نے لے لی۔
دنیا کے سب سے بڑے آئس اینڈ سنو تھیم پارک کے طور پر ہاربن آئس اینڈ سنو ورلڈ اس شہر میں جاری تبدیلیوں کا عکس پیش کرتا ہے۔ یہ خطہ جو کبھی صنعتی ڈھانچے کی تبدیلی کے چیلنجز سے دوچار تھا، اب یہاں کی فولاد سازی اور مہارت ان یادگار سرمائی پرکشش مقامات کی بنیاد بن چکی ہے جس سے عالمی سیاحوں کی آمد کی صورت میں ایک نئی توانائی پیدا ہو رہی ہے۔
سی این این کی اس نشریات سے متاثر ہو کر برازیلی سیاح سیمی کلیج مین ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کر کے چین کے موسم سرما کا تجربہ کرنے پہنچا اور جنوبی نصف کرہ کی اپنی گرمیوں کو شمالی دنیا کی ایک حیرت انگیز سرمائی مہم جوئی میں بدل دیا۔
6 منزلہ بلند برفانی مجسموں کو حیرت سے دیکھتے ہوئے کلیج مین نے اس سفر کو سب سے انوکھا لیکن بلاشبہ یادگار اور قیمتی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہاربن میں خوبصورتی اور جدید ٹیکنالوجی کا امتزاج ان کے دورے کی سب سے بڑی حیرتوں میں سے ایک تھا۔
روشنیوں سے منور قدیم ییلو کرین ٹاور کے ماڈل کے سامنے رقص کرتے ہوئے انسان نما روبوٹس اور ڈرونز کے کرتب کی ویڈیو بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ مستقبل کا کوئی شہر معلوم ہوتا ہے۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ موسم سرما ایک ایسی بے مثال رنگا رنگ کارنیول بن سکتا ہے۔




