پی اے سی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان ٹوبیکو بورڈ کی جانب سے خریدی گئی زمین پر غیرقانونی قبضے کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق آڈٹ حکام کی جانب سے کمیٹی کو بریفنگ میں کہا گیا ہے کہ زمین کا قبضہ نہ لینے کی وجہ سے 84 لاکھ روپے کے فنڈز بلاک ہیں، 17 سال پہلے راجن پور میں ٹوبیکو بورڈ نے 50 ایکڑ زمین خریدی، ٹوبیکو بورڈ نے راجن پور میں اراضی 2009 میں خریدی مگر آج تک اراضی کا قبضہ نہیں مل سکا، پاکستان ٹوبیکو بورڈ نے ریسرچ کیلئے زمین خریدی اور 16سال میں ادائیگی بھی کی۔
سیکرٹری غذائی تحفظ نے کہا ہے کہ 50 ایکڑ زمین ہے اور اس پر غیرقانونی قبضہ ہے، زمین کافی سستی مل گئی تھی لیکن قبضہ نہ مل سکا، غیر قانونی قبضے کے معاملے کو دیکھ رہے ہیں، غیر قانونی قابضین کے پاس زمین کا قبضہ ہے۔
ممبر کمیٹی سینیٹر بلال مندوخیل نے کہا آپ نے پے منٹ پہلے کر لی اور قبضہ لیا نہیں۔
ذیلی کمیٹی نے قبضے کے معاملے پر پنجاب حکومت کو خط لکھنے کی ہدایت کر دی۔




