غزہ کے علاقے بیت لاہیہ میں ایک بے گھر فلسطینی بچہ سکول میں بنائی گئی پناہ گاہ میں بیٹھاہے-(شِنہوا)
غزہ(شِنہوا)غزہ میں صحت کے حکام نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکام نے غزہ کی پٹی میں پولیو ویکسین لانے پر پابندی لگادی ہے جس سے صحت عامہ کو سنگین خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔
ایک پریس بیان میں صحت کے حکام نے اس اقدام کو غزہ میں "بچوں کو بالواسطہ ہدف بنانا” قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا کہ اگر ویکسین دستیاب نہیں ہوئی تو 6لاکھ 2ہزاربچوں کو مستقل فالج اور دائمی معذوری کے خطرے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ویکسین کی ناکہ بندی سے اس بیماری کے خلاف 7 ماہ سے جاری مہم کے نتائج خطرے میں پڑ سکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں پہلے سے ہی تناؤ کا شکار صحت کے شعبے کے ساتھ ساتھ علاقے کے سماجی اور معاشی حالات کے لئے ‘سنگین اور تباہ کن’ نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
غزہ کی پٹی میں اگست 2024 میں 25 سال میں پولیو کا پہلا کیس سامنے آیا تھا۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کے اداروں کے تعاون سے علاقے میں پولیو سے بچاؤکے قطرے پلانے کی مہم 2 بار منعقد کی گئی۔
صحت کے حکام نے بین الاقوامی تنظیموں اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں کہ وہ ویکسین لانے کی اجازت دے اور غزہ کی پٹی میں اس کی محفوظ تقسیم کو یقینی بنائے۔
