تازہ ترینایکوڈور کی طالبہ کا چین میں فانوس تہوار کا رنگا رنگ تجربہ،...

ایکوڈور کی طالبہ کا چین میں فانوس تہوار کا رنگا رنگ تجربہ، ثقافتی سرگرمیوں میں شرکت

ساؤنڈ بائٹ (انگریزی): ڈایانا مشیل مالڈوناڈو ریاتیگوئی، ایکوڈور کی طالبہ، ٹونگلنگ یونیورسٹی

"ہیلو، میرا چینی نام ‘لین دی’ ہے۔ میں ایکوڈور سے آئی ہوں اور آج میں ‘چینی لڑکی’ بن رہی ہوں!

میں یہاں صوبہ انہوئی کے شہر ٹونگلنگ میں فانوس کے تہوار کا پہلی بار تجربہ کر رہی ہوں۔ یہ تہوار نئے چینی سال کی تقریبات کے اختتام کی نشاندہی کرتا ہے۔

یہ چین کی سب سے نمایاں روایات میں سے ایک ڈریگن ڈانس ہے۔ ایکوڈور میں بھی تہوار موسیقی اور توانائی سے بھرے ہوتے ہیں لیکن یہاں کی توانائی مختلف ہے۔ یہ تہوار توانائی سے بھرپور اور ہم آہنگ ہے اور سال بھر کے لئے خوش قسمتی کی علامت ہے۔

فانوس کی روشنی سے یہ قدیم شہر جگمگا اٹھتا ہے۔ یہ صرف سجاوٹ نہیں بلکہ کہانیاں، خواہشات اور روایتیں بھی لئے ہوئے ہے۔

یہ تانگ یوآن ہے۔ روایتی فانوس فیسٹیول کی یہ میٹھی چاول کی گولیاں دوبارہ ملاقات اور خوش قسمتی کی علامت ہیں۔ گھر سے بہت دور ہوتے ہوئے بھی اس نے مجھے گھر والوں سے قربت  کا احساس  دلایا۔

فانوس کا تہوار خاندان اور میل جول کا وقت ہے۔ مہمانوں کے لئے یہ حقیقی چینی روایات کا تجربہ ہے۔ شاید ‘چینی بننا’ ان لمحات کو سمجھنا، بانٹنا اور محسوس کرنا ہے۔”

فانوس کا تہوار مبارک ہو!”

ٹونگلنگ، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹیکسٹ آن سکرین:

ڈایانا مشیل مالڈونادو نے ٹونگلنگ میں فانوس کے تہوار میں حصہ لیا

چین کے فانوس کے تہوار میں شرکت کا یہ ان کا پہلا تجربہ ہے

ڈریگن رقص چین کی سب سے مشہور روایتی تقریبات میں شامل ہے

فانوس کی نمائشیں قصبے کو روشن اور خوشیوں سے بھر دیتی ہیں

ہر فانوس ایک کہانی، خواہش اور صدیوں پر محیط روایت سناتا ہے

ٹانگ گوآن میٹھے چاول کے گیندے، ملاپ اور خوش قسمتی کی علامت ہیں

گھر سے دور بھی یہ کھانا تعلق اور یادوں کا احساس دلاتا ہے

فانوس کا تہوار خاندان اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ہے

مہمانوں کو حقیقی چینی روایات کا تجربہ کرنے موقع ملا

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں