رہنماء پیپلز پارٹی و سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا ہے کہ آئین میں 28ویں ترمیم کی ضرورت نہیں، اقدام سے آئین کا ڈھانچہ خراب ہوگا، جوڈیشل کمیشن میں وفاقی وزیر قانون کی موجودگی غیر ضروری ہے، موجودہ بار ایسوسی ایشنز کی قیادت کا سول سپر میسی کیلئے کردار نظر نہیں آرہا۔
ہفتے کو عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ بار ایسوسی ایشنز کی لمبی تاریخ ہے، وکلاء نے ہمیشہ آئین کی بالادستی اور جمہوریت کیلئے کوششیں کیں، وکلاء نے مشرف اور ایوب کے غیر قانونی اقدام کیخلاف بھی جہدوجہد کی۔
انہوں نے کہا کہ جس نے بھی آئین کو پامال کرنے کی کوشش کی وکلاء نے اس غیر قانونی اقدام کے خلاف مزاحمت کی۔
انہوں نے کہا کہ بار ایسوسی ایشنز نے کبھی سیاسی جماعتوں کو استعمال نہیں کیا مگر موجودہ بار ایسوسی ایشنز کی قیادت کا سول سپر میسی کیلئے کردار نظر نہیں آرہا، بیانات آتے رہتے ہیں مگر ماضی کی طرح قیادت کا دو ٹوک موقف سامنے نہیں آتا۔
انہوں نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم ججز کو ٹرانسفر اور ججز کی تعیناتی کیلئے کی گئی ہے، جوڈیشل کمیشن میں جوڈیشل ممبران کی تعداد کم جبکہ وفاقی وزیر قانون کی موجودگی غیر ضروری ہے۔
رضا ربانی نے کہا کہ آئین میں بہت سی غیر ضروری ترامیم کی گئی ہیں، سمجھتا ہوں اب آئین میں مزید ترمیم کی ضرورت نہیں، 28ویں آئینی ترمیم آنے سے آئین کا ڈھانچہ مزید متاثر ہوگا۔




