ہفتہ, فروری 7, 2026
پاکستانقانون سازی کا اختیار 22 کروڑ عوام کی منتخب کردہ پارلیمنٹ کو...

قانون سازی کا اختیار 22 کروڑ عوام کی منتخب کردہ پارلیمنٹ کو ہے، 17 غیر منتخب ججز کو نہیں، اعظم نذیر تارڑ

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ قانون سازی کا اختیار 22 کروڑ عوام کی منتخب کردہ پارلیمنٹ کو ہے، 17 غیر منتخب ججز کو نہیں، قانون کے مطابق سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہو سکتا ہے، ریڈ لائن کراس کرنے پر قوانین موجود ہیں، سوشل میڈیا پر توہین مذہب روکنے کیلئے حکومتی اقدامات سے مقدمات میں کمی ہوئی ہے۔

ہفتے کو عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے مسنگ پرسن کا معاملہ صرف پاکستان میں نہیں ہے پوری دنیا میں ہے، میں خود مسنگ پرسنز والے معاملے میں جوڈیشل کمیشن کا حصہ ہوں، ہم سنجیدگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں، مسنگ پرسنز کیلئے ریلیف پیکیج متعارف کرایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی واقعات میں ہلاک افراد میں اکثر مسنگ پرسنز ہوتے ہیں، نئی کمیٹی لاپتہ افراد کے معاملات پر مزید توجہ دے گی، سوشل میڈیا پر توہین مذہب روکنے کیلئے حکومتی اقدامات سے مقدمات میں کمی ہوئی ہے، چیزوں کو مزید درست کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گھریلو تشدد پر قانون سازی کررہے ہیں اسلام آباد کی حد تک قانون نافذ کردیا ہے، اختلاف کا مطلب لڑائی نہیں بلکہ مہذب معاشرے کا حسن ہے، آئینی ترمیم پر مجھ پر بہت تنقید ہوئی ہے، آج موقع ہے میں اپنا دفاع کروں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایسے واقعات ہوئے کہ سپریم کورٹ نے کریز سے باہر نکل کر کھیلا، سپریم کورٹ نے ایک وزیراعظم کو سزائے موت کی توثیق کی، وزرائے اعظم کو گھر بھیجا، جو مرضی ہوجائے یہ بات طے ہے کہ 22کڑور عوام کی پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ہے، 17غیر منتخب ججز کو پارلیمنٹ کی قانون سازی ختم کرنے کا اختیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ 26ویں ترمیم کا مسودہ بار ایسوسی ایشنز کو تجاویز کیلئے بھیجا، اسی طرح ترمیم کا مسودہ تمام سیاسی جماعتوں کو بھی بھجوایا تھا، اختر حسین نے سول سوسائٹی سے مشاورت کا مشورہ دیا تھا، ہم نے سپیکر قومی اسمبلی کو یہ اختیار دیا کہ وہ سول سوسائٹی کو چیزیں بھیجیں۔

انہوں نے کہا کہ ججز کے ٹرانسفر کا اختیار صدر اور چیف جسٹس کا تھا، ہم نے ججز ٹرانسفر کا طریقہ کار مزید بہتر کیا ہے جو جوڈیشل کمیشن ججز کو تعینات کرسکتا ہے تو وہ ان کی ٹرانسفر کیوں نہیں کرسکتا، اگر پنجاب کے پاس اچھے ججز ہیں تو کیا سندھ، خیبرپختونخوا کے لوگوں کو حق نہیں کہ یہ ججز ان کو خدمات دیں۔

انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت نے اپنا کام شروع کردیا ہے، وقت کیساتھ ساتھ پتہ چلے گا کہ یہ فیصلہ درست تھا یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ 1973ء سے لے کر آج تک سپریم کورٹ نے کسی آئینی ترمیم کو چیلنج نہیں کیا، میں وہ آخری شخص ہوتا جو سویلین کے ملٹری ٹرائل کی حمایت کرتا، لیکن جب ہم بات کرتے ہیں کہ نظام قانون اور آئین کے تحت چلنا ہے تو پھر دل کو سخت کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون کے تحت سویلین کا ملٹری ٹرائل ہوسکتا ہے، آرمی تنصیبات پر حملہ کرنیوالوں کے ٹرائل کا فورم فوجی عدالتیں ہی ہیں، جب آپ ریڈ لائن کو کراس کرتے ہیں تو پھر قوانین موجود ہیں۔

انٹرنیوز
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!