چین کے ایک سفارتکار نے پیر کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں وینزویلا کے خلاف امریکہ کی فوجی کارروائی کی سختی کے ساتھ مذمت کی ہے۔
اقوام متحدہ کے لئے چین کے مستقل مشن کے ناظم الامور سن لی نے کہا کہ چین کو امریکہ کے یکطرفہ، غیر قانونی اور دھونس پر مبنی اقدامات سے گہرا صدمہ پہنچا اور وہ اس کی سخت مذمت کرتا ہے۔
سن لی نے یہ بیان وینزویلا پر امریکی حملے کے بعد سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں دیا۔
ساؤنڈ بائٹ (چینی): سن لی، ناظم الامور ، چین کا مستقل مشن برائے اقوامِ متحدہ
"چین کو امریکہ کے یکطرفہ، غیر قانونی اور دھونس پر مبنی اقدامات سے گہرا صدمہ پہنچا اور وہ اس کی شدید مذمت کرتا ہے۔
سلامتی کونسل کے مستقل رکن کے طور پر امریکہ نے عالمی برادری کی سنگین تشویش کو نظر انداز کیا۔ وینیزویلا کی خودمختاری، سلامتی اور جائز حقوق و مفادات کو جان بوجھ کر پامال کیا۔ امریکہ نے بین الاقوامی تعلقات میں مساوی خودمختاری کے احترام، دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت نہ کرنے، عالمی تنازعات کے پرامن حل اور طاقت کے استعمال پر پابندی کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔
یہ وہ اصول ہیں جو اقوامِ متحدہ کے منشور کے بنیادی مقاصد کو تشکیل دیتے اور عالمی امن و سلامتی کے قیام کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ امریکہ نے اپنی طاقت کو کثیر الجہتی تعلقات پر اور فوجی کارروائیوں کو سفارتی کوششوں پر ترجیح دی ہے جس سے نہ صرف لاطینی امریکہ اور کیریبین بلکہ پوری دنیا کے امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ چین امریکہ کی اس کارروائی کے سخت خلاف ہے جبکہ عالمی برادری نے بھی اس حوالے سے گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے۔”
اقوامِ متحدہ ہیڈکوارٹرز سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ




