بیجنگ (شِنہوا) چین نے 2025 کے دوران آبی وسائل کے تحفظ و انتظام کے منصوبوں کی تعمیر پر 12.8 کھرب یوآن (تقریباً 182.4 ارب امریکی ڈالر) سے زائد کی سرمایہ کاری کی جس کے ساتھ یہ مسلسل چوتھا سال ہے کہ سرمایہ کاری 10 کھرب یوآن کی حد سے تجاوز کر گئی ہے۔
وزیرِ آبی وسائل لی گوینگ نے پیر سے منگل تک بیجنگ میں منعقدہ ایک کانفرنس میں بتایا کہ گزشتہ سال مجموعی طور پر آبی وسائل کے تحفظ و انتظام کے 47 ہزار 563 منصوبے شروع کئے گئے جس کے نتیجے میں ملک بھر میں روزگار کے 31 لاکھ 50 ہزار مواقع پیدا ہوئے۔
لی نے کہا کہ 2025 میں مختلف سطح پر آبی وسائل کے محکموں نے سیلاب اور خشک سالی سے نمٹنے، دریاؤں اور جھیلوں کے حیاتیاتی نظام کی بحالی اور متعلقہ ڈیجیٹل نظاموں کی ترقی میں بھی نمایاں پیش رفت کی۔
وزارت کے مطابق چین نے سیلاب اور خشک سالی سے نمٹنے کے اپنے نظام کو مسلسل مضبوط کیا اور گزشتہ سال انتباہی سطح سے تجاوز کرنے والے 913 دریائی سیلابوں کو کامیابی سے سنبھالا۔
چائنہ واٹر ایکسچینج میں تقریباً 14 ہزار لین دین ریکارڈ کئے گئے جن میں پانی کا مجموعی حجم 1.61 ارب مکعب میٹر رہا جو ایک ریکارڈ سطح ہے۔ یہ پانی بچانے کے طریقہ کار کے شعبے میں چین کی اختراعی کوششوں کی اثر انگیزی کو اجاگر کرتا ہے۔
لی نے اس بات پر زور دیا کہ آبی وسائل کے تحفظ کے شعبے میں اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینا، قومی آبی سلامتی کو یقینی بنانا اور سوشلسٹ جدیدیت کے حصول میں فیصلہ کن پیش رفت کے لئے آبی وسائل کے شعبے کی جانب سے بھرپور کردار ادا کرنا ناگزیر ہے۔




