تہران (شِنہوا) ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کا مطالبہ نہیں کر رہا اور نہ ہی واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کی کوئی وجہ ہے۔
انہوں نے یہ بات امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہی جو جمعرات کو نشر کیا گیا تھا۔
عراقچی نے کہا کہ ہم جنگ بندی کا مطالبہ نہیں کر رہے اور ہمیں یہ بھی نظر نہیں آتا کہ ہمیں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کیوں کرنے چاہئیں کیونکہ ہم ان کے ساتھ دو بار مذاکرات کر چکے ہیں اور ہر بار انہوں نے مذاکرات کے دوران ہی ہم پر حملہ کیا۔
امریکہ کی جانب سے ایران پر ممکنہ زمینی حملے کے بارے میں سوال پر عراقچی نے کہا کہ ہم ان کا انتظار کر رہے ہیں کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ ہم ان کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور یہ ان کے لئے ایک بڑا سانحہ ثابت ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران جاری تنازع کے لئے مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی ممکنہ صورتحال، حتیٰ کہ زمینی حملے کے لئے بھی تیار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کی مسلح افواج ہر طرح کے منظرنامے سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں۔

ایران کے دارالحکومت تہران میں حملوں کے بعد منہدم عمارتوں کا منظر-(شِنہوا)
ادھر ایران نے جمعرات کو کہا کہ اس کی اسلامی انقلاب گارڈز کور (آئی آر جی سی) کی بحریہ نے خلیج عمان میں ایران کی علاقائی سمندری حدود سے 340 کلومیٹر دور امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے یو ایس ایس ابراہم لنکن کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔
ایران کے خاتم الانبیا مرکزی صدر دفترنے سرکاری ٹی وی آئی آر آئی بی کو بتایا کہ ایرانی ڈرونز کی زد میں آنے کے بعد طیارہ بردار جہاز اپنے ڈسٹرائرز کے ساتھ تیزی سے وہاں سے ہٹ گیا اور اس وقت خطے سے ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر موجود ہے۔




