بیجنگ (شِنہوا) چین میں مالیاتی فنڈز کی تقسیم کا حجم مجموعی اخراجات، نئے سرکاری بانڈز کے اجرا اور مقامی حکومتوں کو مرکزی حکومت کی جانب سے منتقل کی جانے والی رقوم کے لحاظ سے ریکارڈ بلند سطح پر پہنچنے کی توقع ہے۔
چین کے وزیر خزانہ لان فو آن نے 14 ویں قومی عوامی کانگریس کے چوتھے سیشن کے موقع پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سال ملک کے مجموعی مالیاتی اخراجات پہلی بار 300 کھرب یوآن (تقریباً 43.5 کھرب امریکی ڈالر) سے تجاوز کرنے کا امکان ہے، جبکہ نئے سرکاری بانڈز کا اجرا 118.9 کھرب یوآن کی ریکارڈ سطح تک پہنچنے کی توقع ہے جو حالیہ برسوں میں سب سے بڑا اجرا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ اس سال مقامی حکومتوں کو مرکزی حکومت کی جانب سے منتقل کی جانے والی مجموعی رقم 104.2 کھرب یوآن تک پہنچنے کی توقع ہے اور اس اقدام سے مقامی حکومتوں کی مالی صلاحیت میں مزید اضافہ ہوگا۔
لان نے کہا کہ اعلیٰ معیار کی ترقی کے حامل اہم شعبوں کے لئے زیادہ فنڈز مختص کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے لئے اس سال تقریباً 13 کھرب یوآن مختص کئے جائیں گے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 7.1 فیصد زیادہ ہے جبکہ تعلیم، سماجی تحفظ، روزگار، صحت اور ہاؤسنگ پر مجموعی اخراجات 124 کھرب یوآن سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ اندرونی طلب کو بڑھانے کے لئے مرکزی حکومت اس سال 100 ارب یوآن مختص کرے گی تاکہ نجی سرمایہ کاری اور عوامی کھپت کو فروغ دینے کے لئے مربوط مالیاتی پالیسیاں متعارف کروائی جا سکیں۔
لان فو آن نے یہ بھی کہا کہ حکام عوام کے لئے فنڈز محفوظ کرنے کی خاطر کفایت شعاری اپنائیں گے۔ چینی مرکزی حکومت اس سال سرکاری بیرون ملک دوروں، سرکاری گاڑیوں اور سرکاری ضیافتوں کے اخراجات میں کم از کم 7 فیصد کمی کرے گی جبکہ کانفرنسوں اور تربیت کے اخراجات میں 10 فیصد کمی کی جائے گی۔




