انٹرٹینمنٹمشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، فنکاروں نے جنگ کے خطرناک نتائج سے...

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، فنکاروں نے جنگ کے خطرناک نتائج سے خبردار کیا

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بڑھتے ہوئے خطرے کے درمیان فنکار بھی منظر عام پر آگئے ہیں، لالی ووڈ، بالی ووڈ اور ہالی ووڈ کے معروف فنکاروں نے اپنی آواز بلند کرتے ہوئے نہ صرف انسانی ہمدردی کا پیغام دیا ہے بلکہ جنگ کے خطرناک نتائج سے خبردار کیا ہے۔

پاکستان میں کئی اداکاروں نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار بھی کیا ہے۔

فیصل قریشی نے کہا ہے انشااللہ امید ہے کہ مکالمہ غالب آئیگا، دنیا میں جو کچھ بھی ہوتا ہے اسکا حل مکالمے میں مل سکتا ہے۔

نادیہ خان نے کہا یہ مسلمانوں کیلئے ایک مشکل وقت ہے جو متحد نہیں بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں، یہ مسلم امہ کیلئے بڑا دھچکا قرار دیا۔

علامہ جعفری نے خاموش رہنے والوں پر تنقید کی اور کہا کہ اللہ ہی سب کچھ دینے والا ہے لہٰذا جو صحیح ہے اس پر قائم رہو۔

مشی خان، مایا علی، مدیحہ رضوی اور خالد انعام نے اپنی دعائوں اور قرآنی آیات کے ذریعے امن اور صلح کی اپیل کی۔

نازش جہانگیر نے کہا کہ فساد سے دور رہو ، یہ ایک آزمائش ہے، ہم دعا کرتے ہیں بات چیت سے مسائل حل ہوں۔

اداکارہ نرگس فخری نے دبئی سے پوسٹ کرتے ہوئے کہا گزشتہ دو دن یہاں بہت پراسرار رہے، پنجابی گلوکار و اداکار ایمی وِرک نے کہا صورتحال میرے دل پر بھاری ہے، میری دعائیں صرف اپنے پیاروں نہیں ہر متاثرہ شخص کیلئے ہیں۔

بالی وڈسٹار نورا فتیحی نے کہا کہ میرا امن و اتحاد کا پیغام ہر انسان کیلئے ہے۔

ہالی ووڈ فنکاروں نے زیادہ سیاسی موقف اختیار کیا، کیری کون نے واشنگٹن کی پالیسی پر تنقید کی، جان کساک نے پوسٹ کیاکہ ٹرمپ ایپسٹن سے توجہ ہٹانے اور نیتن یاہو کی خواہش پوری کرنے کیلئے ایک وگ دی ڈاگ جنگ شروع کرتے ہیں۔

جین فونڈا نے لاس اینجلس میں احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطرناک اور پاگل جنگ بین الاقوامی قانون، ہمارے آئین اور وار پاورز ایکٹ کی خلاف ورزی ہے بلکہ وسیع پیمانے پر جنگ کے امکانات پیدا کرتی ہے اور خبردار کیا کہ زندگیاں غلط وجوہات کی بنا پر ضائع ہو سکتی ہیں۔

موسیقار جیک وائٹ نے انسٹاگرام پر صدر پر تنقید کرتے ہوئے لکھا دیکھو امن کے بورڈ کے لیڈر کو، وینزویلا، گرین لینڈ، ایران، کیوبا، فرق کیا پڑتا ہے؟۔

انٹرنیوز
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں