پاکستان اور ازبکستان نے توانائی، ٹرانسپورٹ، زراعت و صنعت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
جمعہ کو وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان کی زیر صدارت پاکستان ازبکستان مشترکہ ورکنگ گروپ کا اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکرٹری تجارت جواد پال، مختلف وزارتوں اور ایس آئی ایف سی کے نمائندگان نے شرکت کی۔
اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ، تجارتی راستوں، مختلف شعبوں میں تعاون اور طے شدہ مفاہمتی یادداشتوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم کے وژن کے تحت پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارت بڑھانے کیلئے پانچ سالہ روڈ میپ 2026ء تا 2030ء پیش کیا جائے گا اور ازبکستان کے ساتھ طے شدہ پروٹوکولز پر عملدرآمد بھی اسی روڈ میپ کے ذریعے کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اقتصادی شراکت داری کو وسعت دینے کیلئے 8ورکنگ گروپس قائم کیے گئے ہیں جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں کیلئے مجوزہ روڈ میپ اجلاس میں پیش کئے۔
اجلاس میں توانائی، ٹرانسپورٹ، زراعت اور صنعت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا جبکہ ازبکستان کیلئے چین کے ذریعے متبادل تجارتی راستہ مختصر اور آسان بنانے کے منصوبے پر بھی غور کیا گیا۔
دونوں ممالک نے علاقائی رابطہ کاری اور وسطی ایشیا تک رسائی کے نئے تجارتی مواقع تلاش کرنے، دوطرفہ تجارتی حجم میں اضافے کیلئے مشترکہ اقدامات تیز کرنے پر زور دیا۔




