ہفتہ, جنوری 10, 2026
تازہ ترینچین کی تکنیکی پیشرفت عالمی جنوب کی ترقی میں اہم کردار ادا...

چین کی تکنیکی پیشرفت عالمی جنوب کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، افریقی تجزیہ کار کی رائے

چین جہاں اعلیٰ معیار کی ترقی کے حصول کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، وہیں اس نے عالمی جنوب کے ممالک کو اپنی جدید ٹیکنالوجیز تک رسائی بھی فراہم کر دی ہے تاکہ ان کی ترقی کے عمل میں تیزی لائی جا سکے۔

یہ بات کنسورشیم آف افریقن پروفیشنل جرنلسٹس فار سٹرنتھننگ سائنو افریقن کوآپریشن کے نائب صدر وینڈمی وسی اونگراوانے اجاگر کی ہے۔

اونگراوا نے وضاحت کی کہ چین نے ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لئے ٹیکنالوجی اور مہارت منتقل کرنے کے متعدد طریقے فعال کئے ہیں اور لُوبان ورکشاپ اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (فرانسیسی): وینڈمی اوسی اونگراوا، نائب صدر، کنسورشیم آف افریقن پروفیشنل جرنلسٹس فار سٹرنتھننگ سائنو افریقن کوآپریشن

"اعلیٰ معیار کی ترقی کے تصور کے ساتھ یہ ایک منتقلی کی نمائندگی کرتا ہے۔ چین ‘میڈ اِن چائنہ’ سے ‘انوینٹڈ اِن چائنہ’ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ‘انوینٹڈ اِن چائنہ’ سے مراد وہ ٹیکنالوجیز ہیں جو خود چینی ماہرین نے تیار کی ہیں۔

اور اس کا اثر ترقی پذیر ممالک اور عالمی جنوب کے ممالک پر بھی پڑتا ہے، کیونکہ چین یہ ٹیکنالوجیز نسبتاً کم لاگت پر عالمی جنوب کے ممالک کے لیے دستیاب کر سکتا ہے۔ اس سے اضافی قدر پیدا ہوتی ہے کیونکہ اس طرح ترقی پذیر ممالک اور عالمی جنوب کے ممالک تیزی سے آگے بڑھ سکتے ہیں اور وہ مراحل چھوڑ سکتے ہیں جن سے چین کو ماضی میں گزرنا پڑا تھا۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ چین نے بہت جلد محسوس کر لیا کہ پائیدار ترقی کے لئے صرف سرمایہ ہی واحد ذریعہ نہیں ہے۔ آج چین نے ٹیکنالوجی  اور صلاحیتوں کی منتقلی سے متعلق متعدد طریقے فعال کر دئیے ہیں۔ میرے خیال میں چین انہی شعبوں پر انحصار کرے گا تاکہ ترقی پذیر ممالک اور عالمی جنوب کے ممالک کی مدد کی جا سکے۔

آج صلاحیتوں کی منتقلی کو لُوبان ورکشاپ کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے جو چین کو صنعتی صلاحیتیں ان ورکشاپس کے ذریعے منتقل کرنے کی اجازت دیتی ہے۔”

اونگراوا نے مزید کہا کہ وہ چین کو عالمی جنوب کی ترقی کو آگے بڑھانے والی محرک قوت کے طور پر دیکھتے ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (فرانسیسی): وینڈمی اوسی اونگراوا، نائب صدر، کنسورشیم آف افریقن پروفیشنل جرنلسٹس فار سٹرنتھننگ سائنو افریقن کوآپریشن

"لُوبان ورکشاپس کے علاوہ، چین عالمی جنوب کے ممالک کو ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تعاون بھی فراہم کرتا ہے، جس میں ٹیکنالوجی کی منتقلی، افریقہ میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے قیام میں تعاون، اور افریقی حکومتوں کے لیے ای-گورنمنٹ سسٹمز کی تخلیق اور ڈیزائن میں مدد شامل ہے۔ چین وہ محرک قوت ہے جو عالمی جنوب کے ممالک کو مخصوص ٹیکنالوجیز حاصل کرنے اور تیزی سے ترقی کرنے کے قابل بناتی ہے۔”

عابدجان سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹیکسٹ آن سکرین:

چین کی جدید ٹیکنالوجی عالمی جنوب کی ترقی میں مددگار ثابت ہو رہی ہے

اعلیٰ معیار کی ترقی چین کی معاشی حکمتِ عملی کا مرکزی نکتہ ہے

چین عالمی جنوب کو جدید ٹیکنالوجیز تک رسائی فراہم کر رہا ہے

لُوبان ورکشاپ صنعتی اور تکنیکی تربیت کی اہم مثال ہے

چین نے ٹیکنالوجی اور مہارت کی منتقلی پر خصوصی توجہ دی ہے

ترقی پذیر ممالک چین کی کم لاگت ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں

چین نے ’’میڈ اِن چائنہ‘‘ سے ’’انوینٹڈ اِن چائنہ‘‘ کی طرف سفر شروع کر دیا

ڈیجیٹل تعاون افریقہ میں ترقی کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے

ای گورنمنٹ سسٹمز کے قیام میں چین کا کردار نمایاں ہے

چین عالمی جنوب کی ترقی کو آگے بڑھانے والی مضبوط قوت ہے

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!