جمعرات, فروری 5, 2026
پاکستانوزیراعظم کی کشمیریوں کے حق خودارادیت کے عزم کی تجدید

وزیراعظم کی کشمیریوں کے حق خودارادیت کے عزم کی تجدید

وزیراعظم شہباز شریف نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد کی غیر متزلزل حمایت کے عزم کی تجدید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری 8 دہائیوں سے بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث بنیادی حق سے محروم ہیں، سیاسی نظر بندیاں، ذرائع ابلاغ پر پابندیاں، اختلاف رائے کو دبانا معمول کے بھارتی ہتھکنڈے بن چکے، وہ دن دور نہیں جب جموں کشمیر کے عوام بھارتی قبضے کی زنجیریں توڑ کر خوف سے آزاد مستقبل میں اپنی زندگیاں بسر کریں گے۔

یوم یکجہتی کشمیر پر جاری بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ ہر سال 5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے، یہ دن اس عزم کی تجدید کا موقع ہے کہ پاکستان کے عوام اور حکومت اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے حق خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد میں ان کی اصولی اور غیر متزلزل حمایت جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود دیرینہ حل طلب تنازعات میں سے ایک ہے، ان برسوں کے دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں نے بلا شبہ اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ جموں و کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے اور اس کے حتمی مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ایک آزاد اور غیر جانبدار رائے شماری کے ذریعے کیا جانا ہے تاہم تقریبا 8دہائیوں سے بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث کشمیری عوام کو اس بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہائیوں کی خونریزی، ظلم و ستم اور بربریت کے باوجود، مقبوضہ جموں و کشمیر آج بھی بھاری فوجی موجودگی، مکمل جبر اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا گڑھ بنا ہوا ہے، سیاسی نظر بندیاں، حقیقی سیاسی سرگرمیوں کا گلا گھونٹنا اور ذرائع ابلاغ پر سخت پابندیاں، مقبوضہ جموں و کشمیر میں اختلاف رائے کو دبانے کیلئے بھارت کے معمول کے ہتھکنڈے بن چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 5اگست 2019ء کو بھارت نے غیر قانونی اور یکطرفہ انتظامی و قانونی اقدامات کا ایک ایسا سلسلہ شروع کیا جن کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر پر اپنے جبری تسلط کو مضبوط بنانا تھا، یہ اقدامات نہ صرف اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہیں بلکہ متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن کی بھی صریحا نفی کرتے ہیں، آبادی کے تناسب میں زبردستی مصنوعی تبدیلی یا کشمیر کی قانونی اور انتظامی حیثیت کو بدلنے کی بھارت کی یہ کھوکھلی کوششیں اسے اس کی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں کر سکتیں، نہ ہی کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق کو کمزور کر سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی اقدامات ہندوتوا نظریے کے تحت ہیں جن کا مقصد امتیازی سلوک کو معمول بنانا، مذہبی آزادیوں کو محدود کرنا اور اختلاف رائے کو جرم قرار دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مساجد اور ان کی انتظامی کمیٹیوں کی مسلسل نگرانی، مذہبی آزادی کے حق کی سنگین خلاف ورزی اور مسلمان آبادی کو درپیش امتیازی سلوک کی واضح عکاس ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افسوسناک طور پر بھارتی قبضہ اب محض عسکری جبر تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے نظریاتی جبر کی شکل اختیار کر لی ہے جس کا مقصد ایک پوری قوم کو خاموش اور بے اختیار بنانا ہے، دہائیوں کے ظلم و جبر کے باوجود بہادر اور ثابت قدم کشمیری عوام نے اپنی جائز امنگوں سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا ہے پاکستان ان کی بے مثال جرات، استقامت اور قربانیوں کو سلام پیش کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بطور وزیراعظم پاکستان میں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سمیت ہر بین الاقوامی فورم پر کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی بھرپور اور مسلسل وکالت کی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان کشمیری عوام کی آزادی کی جدوجہد میں اپنی مکمل اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک وہ اقوام متحدہ کی سرپرستی میں وعدے کے مطابق آزاد اور غیر جانبدار رائے شماری کے ذریعے اپنا حق خودارادیت حاصل نہیں کر لیتے۔

انہوں نے کہا کہ انشا اللہ تاریکی کے یہ دن جلد آزادی کی روشن سحر میں تبدیل ہوں گے اور کشمیری بھارتی قبضے کی زنجیریں توڑ کر خوف سے آزاد مستقبل میں زندگیاں بسر کریں گے۔

انٹرنیوز
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

error: Content is protected !!