بیلٹ اینڈ روڈ+سی پیکدو نسلیں، ایک طبی خواب: پاکستانی چچا،بھتیجا چین کے 15 ویں پانچ...

دو نسلیں، ایک طبی خواب: پاکستانی چچا،بھتیجا چین کے 15 ویں پانچ سالہ صحت منصوبے کا حصہ بن گئے

نان چھانگ (شِنہوا) سال 2026 چین کے 15ویں 5سالہ منصوبے کا پہلا سال ہے اور ساتھ ہی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے ایک نئے عشرے کا آغاز بھی ہے۔ چین کے مشرقی صوبے جیانگ شی میں نان چھانگ یونیورسٹی کے دوسرے ملحقہ ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں 24 سالہ پاکستانی طالب علم نے اپنے سپروائزنگ انسٹرکٹر کی رہنمائی میں سرجیکل ٹیم کے ساتھ خوردبینی جراحی مکمل کی۔سرجیکل گاؤن اتارتے ہوئے اس کے ذہن میں 19 سال پرانی یاد تازہ ہو جاتی ہے جب اس کے چچا ڈاکٹر تحسین احمد نے جیانگ شی کی جنگ گانگ شان یونیورسٹی میں بطور بین الاقوامی طالب علم پہلی بار آپریشن ٹیبل کے سامنے کھڑے ہو کر عملی تربیت حاصل کی تھی۔ جنگ گانگ شان سے نان چھانگ تک اور  چچا سے بھتیجے تک پاکستانی میڈیکل طلبہ کی دو نسلوں نے چین میں اپنی محنت کے نقوش چھوڑے ہیں۔

حسیب کا ڈاکٹر بننے کا خواب اپنے چچا کے ڈرائنگ روم سے شروع ہوا تھا۔ حسیب نے بتایا کہ بچپن سے میں انہیں ہمیشہ سفید کوٹ اور سٹیتھو سکوپ میں دیکھتا تھا۔ مریض ان کی جو عزت کرتے تھے اس نے مجھے کم عمری میں ہی اس پیشے کا گرویدہ بنا دیا تھا۔ ڈاکٹر تحسین احمد اب پاکستان کے ایک سرکاری ہسپتال میں سینئر ڈاکٹر ہیں، لیکن ان کی ایک خاص پہچان ‘چین سے تعلیم یافتہ سابق طالب علم’ کی بھی ہے۔ 2008میں وہ جنگ گانگ شان یونیورسٹی کے سکول آف میڈیسن میں داخل ہوئے اور وہاں کے اولین پاکستانی طلبہ میں شامل تھے۔ حسیب یاد کرتے ہیں کہ میرے چچا مجھے چین کی کہانیاں سناتے تھے، جن میں جنگ گانگ شان کے سبز پہاڑ، شفاف پانی، اساتذہ کی شفقت اور پہلے جانوروں کے تجربے کے دوران ان کی گھبراہٹ شامل تھیں۔ وہ ہمیشہ کہتے کہ چین میں تعلیم کے تجربے نے ان کی زندگی بدل دی۔ 2019 میں جب حسیب یونیورسٹی کا انتخاب کر رہے تھے، تو ان کے چچا نے مختصر مگر دو ٹوک مشورہ دیا کہ "چین جاؤ۔” چچا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حسیب کلینیکل میڈیسن کی  تعلیم کے لئے نان چھانگ یونیورسٹی آئے، جہاں اب وہ اپنی انڈرگریجویٹ تعلیم مکمل کر کے پوسٹ گریجویٹ تعلیم کا آغاز کر چکے ہیں۔

پاکستان واپسی کے بعد ڈاکٹر تحسین احمد سرکاری ہسپتالوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جہاں انہیں ترقی پذیر ممالک کے بیشتر ڈاکٹروں کی طرح ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے مریض زیادہ اور وسائل کم ہیں۔ حسیب کے مطابق ان کے  چچا بتاتے ہیں کہ وہاں ایک ڈاکٹر روزانہ سینکڑوں مریض دیکھتا ہے اور بستروں کی ہمیشہ کمی رہتی ہے لیکن وہ ہمیشہ چین کی طبی ٹیکنالوجی پر نظر رکھتے ہیں۔ اور ہر ویڈیو کال پر اکثر پوچھتے ہیں کہ چین میں اب کون سی نئی ٹیکنالوجی آئی ہے؟ حسیب کی نظر میں چینی طب پر ان کے چچا کے بھروسے کی بنیاد ان کا اپنا تعلیمی تجربہ ہے۔ انہوں نے چین کی ترقی کی رفتار کا خود مشاہدہ کیا۔ وہ جانتے ہیں کہ چین کیا حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چین میں حسیب کے اپنے تجربات نے بھی ان کے چچا کے اس فیصلے کی تصدیق کر دی ہے۔حسیب کہتے ہیں کہ چین میں انہیں سب سے بڑا فرق ڈیجیٹلائزیشن کا محسوس ہوا۔ بڑے چینی ہسپتالوں میں رجسٹریشن سے لے کر معائنے اور سرجری تک سب کچھ واضح ڈیجیٹل نظام کے تحت ہوتا ہے۔ انہیں خاص طور پر کم سے کم جراحی اور جدید امیجنگ ٹیکنالوجی کی پختہ عملی شکل نے متاثر کیا، جو علاج کے نتائج بہتر بنانے کے ساتھ مریضوں کا بوجھ بھی کم کرتی ہے۔

2024 میں گوادر میں چین-پاکستان فرینڈشپ ہسپتال کی نئی تشخیصی عمارت فعال ہوئی، جو چینی تعاون سے تعمیر کی گئی۔ یہ ہسپتال روزانہ تقریباً 900 مریضوں کو طبی خدمات فراہم کرتا ہے اور اس کا سازوسامان مقامی معیار سے کہیں بہتر ہے۔ حسیب اس منصوبے کا گہرا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میرے چچا اور میرے لئے یہ ایک بہت ہی ٹھوس مثال ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ پاک-چین تعاون محض پالیسی کی بات نہیں ہے بلکہ یہ حقیقت میں عام لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بناتا ہے۔ ڈاکٹر تحسین احمد نے فون پر اپنے بھتیجے کو بتایا کہ اگر اس طرح کے مزید ہسپتال تعمیر کئے جائیں تو پاکستان میں بنیادی صحت کی سہولیات کا نقشہ مکمل طور پر بدل جائے گا۔

سال 2026 حسیب کے لئے خاص اہمیت کا حامل ہے۔ یہ وہ سال ہے جب وہ اپنی پوسٹ گریجویٹ تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہی وہ سال بھی ہے جب چین اپنے 15 ویں 5 سالہ منصوبےکے تحت ایک نئے سفر کا آغاز کر رہا ہے جس میں بیلٹ اینڈ روڈ کے اعلیٰ معیار کے تعاون کو کلیدی ہدف قرار دیا گیا ہے۔ حسیب کا کہنا ہے کہ میرے لیے یہ لمحہ ذمہ داری کے آغاز کی علامت ہے۔ وہ امید کرتے ہیں کہ انہیں پاک-چین طبی تعاون کو فروغ دینے کے مواقع ملیں گے، جس میں طبی آلات کی فراہمی، کم سے کم جراحی کی تکنیکوں کی تربیت، ہسپتالوں کے انتظامی ماڈلز اور طبی ماہرین کی مشترکہ تربیت شامل ہے۔ حسیب کے بقول محض آلات کے عطیہ کے مقابلے میں، میں سمجھتا ہوں کہ باصلاحیت افرادی قوت کی تیاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی زیادہ طویل مدتی اہمیت رکھتی ہے۔ میرے چچا کی نسل کے ڈاکٹروں نے تجربے پر انحصار کیا، ہماری نسل کو ٹیکنالوجی کے ذریعے بااختیار ہونا چاہیے۔ طبی ماہرین کی مشترکہ تربیت کے حوالے سے حسیب کا اپنا ایک وژن ہے، جس میں دو طرفہ تبادلے کا طریقہ کار وضع کرنا، ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کے طلبہ کو مشترکہ طور پر تربیت دینا، دور بیٹھے مریضوں کے معائنے اور آن لائن تدریس کے پلیٹ فارم قائم کرنا، مختصر مدت کے کلینیکل ٹریننگ پروگرام شروع کرنا اور سائنسی تحقیق میں تعاون کے ذریعے مشترکہ طور پر اعلیٰ سطح کے تحقیقی مقالے شائع کرنا شامل ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ طویل مدت میں افرادی قوت کا تعاون ہی پاک-چین طبی اشتراک کا سب سے پائیدار حصہ ہے۔

2008 میں حسیب کے چچا تحسین احمد نے جنگ گانگ شان یونیورسٹی کے سکول آف میڈیسن میں تعلیم حاصل کی اور وہ وہاں کے اولین پاکستانی بین الاقوامی طلبہ میں سے ایک تھے۔(شِنہوا)

چین میں 7 سال گزارنے کے بعد حسیب نے صرف طب ہی نہیں سیکھی۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے طویل مدتی منصوبہ بندی کا تصور، کام کو عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت اور تکنیکی اختراع کو دی جانے والی اہمیت سیکھی ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ میں چینی ثقافت میں اجتماعی ذمہ داری کے احساس اور محنت و مشقت کو سمجھنے کے قابل ہوا ہوں۔ انہوں نے روانی سے چینی زبان بولتے ہوئے رپورٹر کو بتایا کہ میرے چچا کی نسل کے بیرون ملک مقیم طلبہ پاک-چین دوستی کے علمبردار تھے۔ ہماری نسل اس ورثے کی امین اور ایک پل  ہے۔ وہ چین میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند تمام نوجوان پاکستانیوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ چین نہ صرف معیاری تعلیمی وسائل فراہم کرتا ہے بلکہ ترقی کے لئے ایک وسیع پلیٹ فارم بھی پیش کرتا ہے۔ پاک-چین دوستی حقیقی اور گہری ہے اور نوجوان نسل ہی اس دوستی کا مستقبل ہے۔

ایک انسان کے خواب سے شروع ہونے والا یہ سفر اب 2 نسلوں کی میراث بن چکا ہے۔ 15ویں 5 سالہ منصوبے کے آغاز اور بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کے ایک نئے باب کے ساتھ اس پاکستانی چچا اور بھتیجے کی کہانی جاری ہے۔

شنہوا
+ posts
متعلقہ خبریں
- Advertisment -
Google search engine

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں