پاکستان کرکٹ ایک بار پھر اہم موڑ پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے اور آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں مایوس کن کارکردگی کے بعد پاکستان کرکٹ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا امکان بڑھ گیا ہے، کوچ کیساتھ کپتان کی کرسی بھی ہلنے لگی، بابراعظم اور شاہین آفریدی سمیت کئی پلیئرز کی جگہ بھی خطرے میں پڑ گئی ہے جبکہ نوجوان و باصلاحیت پلیئرز کو آزمانے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا، بنگلہ دیش کیخلاف آئندہ سیریز کئی کھلاڑیوں کے کیریئر کیلئے فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق قیادت اور کوچنگ سٹاف کے مستقبل پر سنجیدہ غور جاری ہے، آئندہ چند ہفتے کئی اہم فیصلوں کا تعین کر سکتے ہیں، قومی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا اور ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کی پوزیشنز بھی زیر بحث ہیں جبکہ سلیکشن کمیٹی کارکردگی کی بنیاد پر سکواڈ میں رد و بدل پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔
آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں قومی ٹیم سپر ایٹ مرحلے تک تو رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہی تاہم سیمی فائنل میں جگہ نہ بناسکی، روایتی حریف بھارت کیخلاف شکست اور پھر انگلینڈ کے ہاتھوں ہار نے پاکستان کی راہ مزید دشوار بنا دی۔
آخری میچ میں سری لنکا کیخلاف بڑے مارجن سے کامیابی درکار تھی لیکن مڈل آرڈر کی ناقص بیٹنگ کے باعث مطلوبہ ہدف حاصل نہ کیا جا سکا اور یوں گرین شرٹس کا سفر اختتام کو پہنچا۔
میگا ایونٹ میں ناقص اجتماعی کارکردگی کے بعد سینئر کھلاڑیوں کی جگہ بھی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض تجربہ کار کرکٹرز کو آرام دیکر نوجوان باصلاحیت پلیئرز کو موقع دینے کی تجویز زیر غور ہے، اسی تناظر میں بابر اعظم اور شاہین آفریدی سمیت چند نمایاں کھلاڑیوں کی کارکردگی پر بھی بحث جاری ہے۔
پی سی بی حکام ٹیم کی حکمت عملی، فیصلہ سازی اور دبائو میں کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں جبکہ ڈریسنگ روم کے ماحول اور قیادت کے انداز کو بھی زیر غور لایا گیا ہے۔




